رسائی کے لنکس

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو نہیں معلوم نہیں اگلے دلائی لاما کہاں پیدا ہوں گے یا کہاں سے آئیں گے۔

تبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما نے کہا ہے کہ اس کا فیصلہ تبتی عوام کریں گے نا کہ چین، کہ ان کی روایت جاری رہنی چاہیے یا نہیں۔

چین کی سرحد سے ملحقہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست ارونا چل پردیش کے قصبے ٹوانگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام سے قبل ہی اپنے جانشین کے تقرر سے متعلق کانفرنس منعقد کریں گے۔

بدھ بھکشو کے دورہ ارونا چل پردیش پر بیجنگ سخت برہم ہوا ہے کیونکہ وہ اس ہمالیائی ریاست کے کچھ حصوں پر ملکیت کا دعویدار اور دلائی لاما کو اپنے نظریات کا مخالف سمجھتا ہے۔

81 سالہ روحانی پیشوا کا جانشین کون ہو گا؟ اس سوال نے اس وقت اہمیت اختیار کی جب بیجنگ نے اصرار کیا کہ اس کے کیمونسٹ راہنما آئندہ دلائی لاما چننے کا اختیار رکھتے ہیں کیونکہ یہ روایت چینی بادشاہوں سے شروع ہوئی تھی۔

لیکن دلائی لاما کا کہنا تھا کہ چین کے عہدیدار ان کے جانشین کے تقرر کا حق نہیں رکھتے کیونکہ وہ (چینی حکام) لادین ہیں اور مذہب کے تصور پر یقین نہیں رکھتے۔

"یہ مضحکہ خیز ہے کہ چینی حکومت تناسخ (دوسرے جنم) کی عموماً ذمہ داری لے اور خاص طور پر میرے معاملے میں۔۔۔ پہلے چینی کمیونسٹوں کو دوبارہ جنم لینے کے نظریے کو تسلیم کرنا چاہیے۔"

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو نہیں معلوم نہیں اگلے دلائی لاما کہاں پیدا ہوں گے یا کہاں سے آئیں گے۔

"میرا خیال ہے کہ شاید میرے انتقال کے وقت کوئی ایسے اشارے ملیں (لیکن) اس لمحے (نئے دلائی لاما کا) کوئی عندیہ نہیں ہے۔"

دلائی لاما 1959ء میں چین میں ایک ناکام تحریک کے بعد تبت سے جلا وطن ہو گئے تھے اور شمالی بھارتی قصبے دھرم شالا کو اپنا مسکن بنایا۔ چین انھیں ایک خطرناک علیحدگی پسند قرار دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG