رسائی کے لنکس

اس تعزیتی تقریب میں، صدر اوباما نے نائب صدر جو بائیڈن؛ اور اُن کے پیش رو، سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے ہمراہ شرکت کی۔ گذشتہ ہفتے ڈیلاس میں ایک سیاہ فام فرد نے نشانہ لے کر پولیس پر گولیاں چلائیں جس واقعے میں پانچ اہل کار ہلاک ہوئے

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ’’مایوسی کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے‘‘، اور یہ کہ ’’امریکہ اتنا منقسم نہیں جتنا تاثر دیا جاتا ہے‘‘۔

پولیس اہل کاروں کے روزمرہ کے مشکل کام کا حوالہ دیتے ہوئے، صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ’’محبت و عزت کے حقدار ہیں نہ کہ نفرت کے‘‘۔

اُنھوں نے یہ بات پیر کے روز ڈیلاس میں ایک تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو ہلاک ہونے والے پانچ پولیس اہل کاروں کی یاد میں منعقد کی گئی۔ صدر اس بات کے کوشاں ہیں کہ نسل پرستی کے سوالات پر قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں اور اقلیتی برادریوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے، جس کے باعث منقسم قوم کو متحد کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ ماضی بعید میں ملک میں نسلی امتیاز کا معاملہ لاحق رہا ہے۔ لیکن، بحیثیت قوم امریکی اس معاملے میں بہت پہلے ہم کافی پیش رفت حاصل کر چکے ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ’’ہمیں بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، حقائق کو چھپانے کی نہیں، مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔

گذشتہ ہفتے نشانہ لے کر ایک سیاہ فام نے پولیس پر گولیاں چلائیں جس میں پانچ اہل کار ہلاک ہوئے، جب لوزیانہ اور منی سوٹا میں قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سیاہ فام شہریوں کی ہلاکت پر ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔

اوباما نے اس تعزیتی تقریب میں نائب صدرجو بائیڈن اور صدر کے پیش رو سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے شرکت کی۔

اپنے کلمات کے آغاز پر صدر براک اوباما نے مقدس بائبل کا حوالہ دیا جس میں آیا ہے کہ تکلیف ہی عظمت کی کنجی ہے، کیونکہ مصیبت ہی سے ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے، جس سے اخلاق میں استقامت آتی ہے اور اخلاقی اقدار ہی سے امید کی کرن جنم لیتی ہے۔

سابق صدر جارج بش نے کہا کہ ٹیکساس میں رہنے والے ایک دوسرے کے احباب ہوتے ہیں، اُن میں سے ایک چلا جائے تو سبھی تعزیت کرتے ہیں۔ اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ اِنہی اقدار کو سربلند کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل، وائٹ ہاؤس ترجمان جوش ارنیسٹ نے کہا تھا کہ صدر پولیس اہل کاروں کے ساتھ اپنی حمایت کا اعادہ کریں گے‘‘، اور اُن کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر امریکی عوام کی خدمت کے لیے ’’نمایاں‘‘ کام کی جانب دھیان مبذول کرائیں گے۔

پیر ہی کے روز ’کینڈل لائٹ وِجل‘ کی تقریب ہوئی جس میں 1000سے زائد افراد نے شرکت کی، جہاں ڈیلاس پولیس سربراہ ڈیوڈ براؤن نے اہل کاروں کو ’’ہیرو‘‘ قرار دیا۔

صدرنے امریکیوں پر زور دیا کہ فاصلے کم کرنے کے لیے مشترک دلیل تلاش کی جائے۔
اپنی تقریر میں صدر نے قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں اور امریکہ میں نسلی تعصب کے معاملے پر بات کی۔

اُنھوں نے کہا کہ قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کار اور اقلیتیں، جن کی وہ خدمت بجا لاتے ہیں، اُن کے تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ صدر نے اتحاد اور امید کو پروان چڑھانے پر زور دیا۔

اوباما نے کہا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ امریکی کیا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن، میں ڈیلاس میں موجود ہوں یہ کہنے کے لیے کہ ضروری ہے کہ ہم مایوسی کو مسترد کریں‘‘۔

اُنھوں نے قوم پر زور دیا کہ نسلی تعلقات کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں ’’ایمانداری سے اور کھل کر‘‘ بات کی جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم پولیس اہل کاروں کی اُس بڑی تعداد سے مانوس ہیں جو ’’عزت کے لائق ہیں، نہ کہ نفرت کے‘‘۔

صدر نے کہا کہ حالانکہ حالیہ عشروں کے دوران امریکہ میں نسلی تعلقات ڈرامائی طور پر بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن، ’’ہمیں پتا ہے کہ تعصب کا معاملہ موجود ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں‘‘۔

یہ تقریب ڈیلاس کے ’مورٹن میرسن سمفنی سینٹر‘ میں منعقد ہوئی جس میں ہلاک ہونے والے پانچ پولیس اہل کاروں کی یاد میں پانچ نشستوں کو خالی رکھا گیا۔

میئر مائیک رولنگز نے کہا کہ وہ ’’بلو وردی میں امن کار کا کام انجام دیتے ہیں؛ اُنھوں نے ایک نصب العین کے لیے جان دی۔ جب گھات لگا کر ایک بزدلانہ حملے میں اِن پولیس اہل کاروں کو گولی ماری گئی، ہمارے شہر کی روح مجروح ہوئی۔ آج ہمیں اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کرنی ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG