رسائی کے لنکس

دمشق: شہریوں اور باغیوں میں جھڑپوں کی اطلاعات


فائل

فائل

'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کا کہنا ہے کہ دوما کے رہائشیوں نے جنگجووں کے گودامو ں پر حملے کیے جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے ایک نواحی علاقے کے رہائشیوں اور حکومت مخالف باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

شام کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق جھڑپیں دمشق کے مشرقی نواحی علاقے دوما کے رہائشیوں اور باغیوں کی شدت پسند تنظیم 'آرمی آف اسلام' کے جنگجووں کے مابین جمعے کو شروع ہوئیں۔

برطانیہ میں قائم تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کا کہنا ہے کہ دوما کے رہائشیوں نے جنگجووں کے گودامو ں پر حملے کیے جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں۔

'آبزرویٹری' کے مطابق علاقے میں موجود اس کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ گوداموں کی حفاظت پر مامور باغی جنگجووں کے فائرنگ سے کئی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

'آبزرویٹری' نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ علاقے کے رہائشیوں اور 'آرمی آف اسلام' کے جنگجووں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ ہفتے کو بھی جاری رہا۔

اطلاعات ہیں علاقے کے رہائشیوں کو بعض دیگر باغی تنظیموں کی مدد حاصل ہے۔ خیال رہے کہ دوما کا بیشتر نواحی علاقہ شام کے صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے قبضے میں ہے۔

صدر اسد کے خلاف گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے جاری مسلح مزاحمت مختلف باغی تنظیموں کے باہمی اختلافات اورجھڑپوں کے باعث بتدریج کمزور پڑ رہی ہے۔

باغی گروہوں کی باہمی جھڑپوں کا آغاز گزشتہ سال کے اختتام پر ہوا تھا۔ اس نوعیت کی بیشتر جھڑپیں شام کے شمالی علاقوں میں ہوتی رہی ہیں جو باغیوں کے قبضے میں ہے۔ تاہم جنوب میں دارالحکومت دمشق کے نواح میں اس نوعیت کی جھڑپوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد شامی باشندے ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 30 لاکھ سے زائد پڑوسی ملکوں میں پناہ گزین ہیں۔

XS
SM
MD
LG