رسائی کے لنکس

بیروت: نوجوان شامی ڈانسر نے خودکشی کر لی


حسن ربا (فائل فوٹو)

حسن ربا (فائل فوٹو)

مبصرین کا کہنا ہے کہ حسن کا خود کشی کرنا لبنان میں رہنے والے شامی مہاجرین میں مایوسی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا اظہار ہے۔

بیروت میں ایک شامی مہاجر رقاص نے ساتویں منزل کی بالکونی سے کود کر خود کشی کر لی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 25 سالہ حسن ربا نے آخری بار رقص کے ایک مظاہرے میں شرکت کرنے کے چند ہی گھنٹے کے بعد بظاہر مایوسی کے عالم میں اپنی جان لے لی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حسن کا خود کشی کرنا لبنان میں رہنے والے شامی مہاجرین میں مایوسی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا اظہار ہے۔

حسن نے 13 جون کو اپنے فیس بک پر ایک بیان میں اپنے خاندان اور اپنے پیاروں سے معافی طلب کی جو بظاہر خود کشی کے اقدام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے بشارالاسد کی حکومت اور فلسطینی علاقے میں اسرائیل کے قبضے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

حسن "سما ڈانس کمپنی" کا ایک رکن تھا جو 2003 میں دمشق میں قائم کی گئی تھی۔ یہ کمپنی ڈانسرز اورڈرامہ آرٹس سے متعلق ایک شامی ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد پر مشتمل تھی جسے 2013 میں اس وقت علاقائی سطح پر شہرت حاصل ہوئی جب اس نے "عرب گاٹ ٹیلنٹ" نامی ٹی وی مقابلہ جیتا تھا۔

جو لوگ حسن کو جانتے تھے ان کا کہنا ہے کہ بیروت میں ایک ٹیچر اور ایک ڈانسر کے طور پر اپنی کامیابی کے باوجود وہ سخت پریشان تھے۔

لندن سے کام کر نے والے ایک صحافی محمد علی نائل نے اپنے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ وہ چند سال پہلے شام سے بھاگ کر بیروت آئے تاہم یہاں آنے کے بعد وہ پریشان رہتے تھے۔ لیکن نائل کا کہنا ہے کہ وہ یہ اپنے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے تھے کہ ان کی پریشانی کی کیا وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں وہ بیروت میں رسوائی کا سامنا نا کر سکے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ لبنان میں اندراج شدہ شامی مہاجرین کی تعداد تقریباً 12 لاکھ ہے اور اس کا مطلب ہے کہ کہ لبنان کی آبادی کا ہر چوتھا شخص تارکین وطن ہے اور انہیں روزگار، تعلیم اور دیگر سہولیات کے حصول میں مقابلہ درپیش ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں شامی تارکین وطن اندراج کروانے کے منتظر ہیں جو عمل اقوام متحدہ کے لبنان کے حکومت کے حکم پر معطل کر دیا ہے۔

گزشتہ پانچ سال سے جاری شامی خانہ جنگی کی وجہ سے شامی مہاجرین کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کو ناقابل قبول اور خطرناک حالات کا سامنا ہے جن میں خوراک کے حصول میں مشکل، بے روزگاری اور قرض کے بوجھ کی وجہ سے ان کا انحصار امداد پر ہے جس کی وجہ سے لبنان کی معیشت پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔

اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کے 2014 کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق لبنان میں رہنے والے 41 فیصد شامی مہاجرین نے اپنی مشکلات کی وجہ سے خود کشی کرنے کے بارے میں سو چا ہے۔

XS
SM
MD
LG