رسائی کے لنکس

نئی حکومت تمام افغانوں کی ترجمان ہوگی، امریکی نمائندہ خصوصی


ہم نے جمہوری نظام كے خلاف كسی بھی غیر آینی تبدیلی كی ہمیشہ شدید مخالفت كی ہے: ڈینئل فلڈمین

ہم نے جمہوری نظام كے خلاف كسی بھی غیر آینی تبدیلی كی ہمیشہ شدید مخالفت كی ہے: ڈینئل فلڈمین

ڈینئل فلڈمین کا کہنا تھا کہ امریكہ صدر کرزئی كی ان كوششوں كی تعریف كرتا ہے جو انہوں نے افغانستان میں سیكورٹی اور استحكام لانے كے لیے گزشتہ 13 سال میں كیں۔

افغانستان اور پاكستان كے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی ڈینئل فلڈمین نے كہا ہے كہ امریكہ اور بین الاقوامی برادری كو یقین ہے كہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ كے درمیان طے پانے والا سیاسی معاہدہ افغانستان میں دیرپا استحكام کا بہترین موقع ثابت ہوسکتا ہے۔

نیویارك میں جمعرات كو صحافیوں سے بات كرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے كی وجہ سے نئی حكومت میں تمام افغانوں كی ترجمانی ہو گی۔ ان کے بقول اس معاہدے نے لاكھوں افغانوں كے ووٹ كا احترام كیا ہے جو انہوں نے اپنے ملك میں ترقی اور استحكام كے لیے ڈالا تھا۔

بعض آزاد مبصرین كا كہنا ہے كہ اشرف غنی اور ڈاكٹر عبداللہ عبداللہ كے درمیان حكومت میں شراكت داری كے معاہدے نے افغان باشندوں كے ووٹ کے ذریعے دیے جانے والے فیصلے کو مسترد کردیا ہے جو انہوں نے طالبان كی دھمكیوں كے باوجود اپنی جان كی پرواہ كیے بغیر گھروں سے نكل كر دیا۔

ڈاكٹر عبداللہ نے بھی جمعرات كو کابل ایك تقریر میں كہا ہے كہ نئی افغان حكومت تمام افغانوں رائے دہندگان كی ترجمان ہے جبكہ اشرف غنی نے بھی معاہدہ طے پا جانے كے بعد اس سے ملتا جلتا بیان دیا تھا۔

امید كی جا رہی ہے كہ اشرف غنی اگلے ہفتے افغانستان كے نئے صدر كا حلف اٹھا لیں گےجس كے بعد امریكہ اور افغانستان كے درمیان دفاعی تعاون سمیت دیگر معاہدوں پر دستخط كیے جائیں گے۔

یاد رہے كہ 2014 كے بعد امریكی افواج كو افغان سیكورٹی فورسز كی تكنیكی معاونت كے لیے افغانستان میں ركھنے كے لیے دفاعی تعاون كے معاہدے پر دستخط ہونا ضروری ہے۔

افغانستان کے سبکدوش ہونے والے صدر حامد کرزئی نے لویہ جرگہ كی حمایت كے باوجود اس معاہدے پر دستخط كرنے سے انكار كر دیا تھا اور كہا تھا كہ یہ معاہدہ نئی منتخب حكومت كو ہی كرنا چاہیے۔

صدر كرزئی نے بدھ كو اپنی الوداعی تقریر میں كہا تھا كہ افغانستان میں طالبان جنگجووں كی طویل شدت پسندی كے ختم نہ ہونے كے ذمہ دار امریكہ اور پاكستان ہیں۔

کرزئی کے اس بیان کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر ڈینئل فلڈمین کا کہنا تھا کہ امریكہ صدر کرزئی كی ان كوششوں كی تعریف كرتا ہے جو انہوں نے افغانستان میں سیكورٹی اور استحكام لانے كے لیے گزشتہ 13 سال میں كیں۔"

پاكستانی وزیر اعظم نواز شریف كے دورۂ نیویارك پر بات كرتے ہوئے فلڈمین نے كہا كہ ہمیں وزیرِ اعظم نواز شریف كو امریكہ میں خوش آمدید كہتے ہئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔

مسٹر فلڈمین كے مطابق "امریكی انتظامیہ كی نواز شریف اور پاكستانی حكومت کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ آئندہ دو روز میں کئی اہم ملاقاتیں ہوں گی جن میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر بات ہو گی۔ ان ملاقاتوں میں میں امریكی نائب صدر جوزف بائیڈن اور وزیرِ اعظم نواز شریف كی میٹنگ بھی شامل ہے۔"

نواز شریف حكومت كے خلاف اسلام آباد میں جاری دھرنوں كے بارے میں بات كرتے ہوئے ڈینئل فلڈمین نے كہا كہ ان دھرنوں میں شركت كرنے والوں كی تعداد بہت كم ہے۔ "لیكن ہم (امریكی انتظامیہ) دیكھیں گے كہ آگے چل كر كیا ہوتا ہے۔ "

انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوری نظام كے خلاف كسی بھی غیر آئینی تبدیلی كی ہمیشہ شدید مخالفت كی ہے۔ ہم اپنے سفارت خانے كے ذریعے مظاہروں پر نظر ركھے ہوئے ہیں اور تمام پارٹیوں سے یہی كہتے ہیں كہ وہ ہنگاموں سے پرہیز كریں اور قانون كی پاسداری كریں۔

یاد رہے كہ نواز شریف جمعے كی دوپہر اقوام متحدہ كی جنرل اسمبلی سے خطاب كریں گے۔ جبكہ امریكہ میں پاكستان تحریكِ انصاف كے كاركن جمعے كو صبح گیارہ بجے نیویارك میں اقوامِ متحدہ كے دفتر كے قریب نواز حكومت كے خلاف مظاہرہ كریں گے۔

وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے جمعرات کو نیویارک میں مصروف دن گزارا جہاں انہوں نے ناروے اور نیپال کے وزرائے اعظم اور ورلڈ بینک کے صدر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

XS
SM
MD
LG