رسائی کے لنکس

ڈینئل پرل کے قتل کی تحقیقات شفاف نہیں تھیں، رپورٹ


مقتول امریکی صحافی ڈینیل پرل جنوری 2002 میں اپنی موت سے چند روز پہلے انتہا پسندوں کے قبضے میں

مقتول امریکی صحافی ڈینیل پرل جنوری 2002 میں اپنی موت سے چند روز پہلے انتہا پسندوں کے قبضے میں

ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی جریدے "وال اسٹریٹ جنرل " سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے الزام میں ایک پاکستانی جیل میں قید چار افراد جائے وقوعہ پر سرے سے موجود ہی نہیں تھے اور استغاثہ نے جان بوجھ کر مقدمہ کے دوران ایک غلط بیانِ حلفی کا سہارا لیا تاکہ مقدمہ جلد از جلد نبٹایا جاسکے۔

جمعرات کے روز جاری کی گئی مذکورہ رپورٹ امریکی صحافیوں اور طلبہ کی کئی سالہ تحقیقات کا نچوڑ ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈینئل پرل کے قتل کے الزام میں سزا یافتہ چاروں افراد جنوری 2002 میں ڈینئل پرل کے اغواء میں تو ملوث تھے لیکن وہ انہیں قتل کیے جانے کے وقت موجود نہیں تھے۔

وال اسٹریٹ جنرل کے پاکستان میں نمائندہ خصوصی ڈینئل پرل کو اس وقت اغواء کیا گیا تھا جب وہ اپنے جریدے کیلیے اسلامی انتہا پسندی کے موضوع پر ایک رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں تحقیق میں مصروف تھے۔ ان کے اغواء کے کچھ عرصے بعد کراچی میں تعینات امریکی سفارتی اہلکاروں کو ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس میں نامعلوم افراد کو ڈینئل پرل کا قتل کرتے دکھایا گیا تھا۔

پرل کی لاش کئی ماہ بعد ایک بوسیدہ قبر سے برآمد ہوئی تھی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صحافی کے اغواء اور قتل میں کل 27 افراد ملوث تھے جن میں سے 14 افراد کی گرفتاری ہی عمل میں نہیں آسکی۔

رپورٹ کی شریک مصنفہ باربرا فینمن ٹوڈ کا کہنا ہے کہ ڈینئل پرل کے مقدمہ قتل میں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فارنسک تجزیہ سے بھی القاعدہ رہنما خالد شیخ محمد کے اس دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس نے ہی امریکی صحافی کا سر قلم کیا تھا۔

رپورٹ کے مرتبین کی جانب سے خالد شیخ کے دعویٰ کی تصدیق کیلیے اس کے ہاتھ کی تصاویر اور ڈینئل پرل کے قتل کی ویڈیو میں دکھائے جانے والے ہاتھ کا مشاہداتی موازنہ کا بھی سہارا لیا گیا۔

خلیجِ گوانتانامو کی امریکی جیل میں قید ڈینئل پرل کے قتل کا اعتراف کرنے والے خالد شیخ محمد کو 11 ستمبر 2001 کو امریکہ پہ کیے گئے دہشت گردحملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی تصور کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG