رسائی کے لنکس

دارفر سمجھوتہ: عدمِ عمل درآمد پر نکتہ چینی


فائل

فائل

دارفر میں سوڈان کی ملیشائیں کنٹرول سےباہر ہیں اور امن کاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں: امریکہ کے خصوصی ایلچی کا بیان

سوڈان کے سرکشی کے شکار علاقے، دارفر کے لیے امریکہ کےخصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ ایک برس قبل دستخط ہونے والے دارفر امن منصوبے کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، جب کہ ملیشیاؤں کو غیرمسلح کرنے اور امن کاروں پر ہونے والے حملے بند کرانے کا کام ابھی باقی ہے۔

ڈین اسمتھ نے یہ بات بدھ کے روز سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں خطے کے اپنے آخری دورے کے دوران کہی۔

اُنھوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ دارفر میں سوڈان کی ملیشائیں کنٹرول سےباہر ہیں اور امن کاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

اسمتھ نے کہا کہ حکومت ملیشاؤں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں رہی۔

اُنھوں نے کہا کہ دارفر کے کچھ عناصر ایسے ہیں جِن کے ذہن میں یہ تاثر کارفرما ہے کہ اقوام متحدہ کے اہل کاربےبس ہیں، جو خیال اُن کے بقول، ناقابلِ قبول ہے۔

متعدد ملیشیا گروہوں نے گذشتہ سال دوحہ میں ایک امن سمجھوتے پر دستخط کیے، تاہم اُس پر عمل درآمد سستی کا شکار ہے۔

اسمتھ نے کہا کہ سب سے بڑی مایوسی اس بات پر ہے کہ دوحہ سمجھوتے پر برائے نام عمل درآمد ہوا ہے، خصوصی طور پر اُن مدوں پر جن سے داخلی طور پر بے دخل ہونے والے افراد استفادہ کر سکتے تھے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ گذشتہ برس ہونے والے امن سمجھوتے سے قبل تقریباً ایک دہائی تک نسلی بنیادوں پر جاری رہنے والے تشدد کی بنا پر لاکھوں لوگ موت کی بھینٹ چڑھ گئے۔
XS
SM
MD
LG