رسائی کے لنکس

ورجینیا کی 'دارالحجرہ‘ مسجد کا مریضوں کی تیمارداری کا پروگرام


دارالحجرہ کا مریضوں کی تیمارداری کا پروگرام، جس کے رضاکار ان مسلمان مریضوں کا خاندان بنتے ہیں جن کا امریکہ میں کوئی اپنا نہیں

اسکول کے دنوں میں ایک شعر یاد کرنا بہت مشکل لگا کرتا تھا ’درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو، ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں۔ پاکستان سے امریکہ آنے کے بعد اس شعر کے اصل معنی پہلی بار اپنی پوری جزئیات کے ساتھ سمجھ میں آئے۔

اگرچہ یہ ترک وطن کسی ظالم بادشاہ کے ناروا رویے سے فرار کے لئے نہیں تھا، نہ ہی اس ہجرت میں کم عمر بچوں کو نئے جوتے اور نئے کپڑے پہنا کر لکڑی کی کمزور کشتیوں میں سمندر پار کروانے جیسے جان لیوا فیصلے شامل تھے۔ پھر بھی یہ احساس بہت شدت سے ہوا کہ زمین کے ایک حصے سے ترک وطن کرکے دوسرے حصے میں جانے والوں کو درد دل رکھنے والے انسانوں کی مدد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اسی احساس نے فلسطین سے نقل وطن کرکے امریکہ آنے والی ایلیا حماد کو بھی بے چین کر دیا۔ ان کا بھی امریکہ میں کوئی خاندان نہیں تھا۔ کوئی اپنا نہیں تھا جو گردے کی پتھری نکلوانے کے معمولی آپریشن کے دوران اسپتال میں ان کے ساتھ موجود ہوتا۔

اِسی احساس نے انہیں بے چین کر دیا کہ جن دنوں اسپتال میں رہنا پڑتا ہے وہ مسلمان ہوں یا تارک وطن، وہ اسپتال کی سفید دیواروں کے درمیان کیسا محسوس کرتے ہونگے۔

اس احساس کے تحت، ایلیا نے ریاستِ ورجینیا کی دارالحجرہ مسجد سے رابطہ کیا اور ایسے مسلمان مریضوں کی تیمارداری کی خواہش ظاہر کی جن سے اسپتال میں کوئی ملاقات کرنے نہیں آتا۔

دارالحجرہ مسجد کی انتظامیہ نے ایلیا حماد کی حساس طبیعت اور جوش کو بھانپتے ہوئے مسجد کے ’فیملی کئیر‘ پروگرام کے تحت ایک ’پیشنٹ وزیٹر پروگرام‘ کا آغاز کیا۔ ایلیا حماد کو اس پروگرام کا انچارج بنا دیا گیا۔

ایلیا پچھلے آٹھ سال سے اس پروگرام کے لئے رضاکار جمع کرتی ہیں۔ ان کی تربیت کا بندوبست کرتی ہیں اور یہ رضاکار ’ورجینیا ہاسپٹل سینٹر‘ نام کے ایک غیر سرکاری اسپتال میں بلا معاوضہ مریضوں کی تیمارداری کرتے ہیں۔ بقول اُن کے، ایسے رضاکاروں کی تلاش جو ایک دو مرتبہ کے بعد بھی اسپتال جاکر انجان مریضوں کا حال پوچھنے پر آمادہ ہوں، آسان نہیں ہوتا۔ لیکن، ایلیا ہمت نہیں ہارتیں۔

ہم نے ایلیا سے پوچھا کہ یہ پروگرام صرف مسلمان مریضوں کے لئے ہی مخصوص ہے یا ان کے رضاکار دیگر عقائد کے حامل افراد کی تیمارداری بھی کرتے ہیں؟ ایلیا نے بتایا کہ پروگرام بنیادی طور پر مسلمان تارکین وطن مریضوں کے لئے ہے۔ مگر اسپتال پہنچ کر اگر مسجد کے رضاکاروں کو معلوم ہو کہ کوئی مسلمان مریض اسپتال میں موجود نہیں تو وہ اسپتال کے نرس سٹیشن سے ایسے مریضوں کی معلومات حاصل کرتے ہیں جنہیں کوئی ملنے نہ آتا ہو، چاہے ان کا تعلق کسی بھی عقیدے سے ہو۔ اور پھر ان کے دروازے پر دستک دے کر اس کا حال دریافت کرتی ہیں۔

’ورجینیا ہاسپٹل سینٹر‘ کے چیپلن، ریورنڈ گراہم بارڈزلی اس پروگرام کا دوسرا متاثر کن کردار ہیں جنہوں نے اس ہسپتال کے دروازے دارالحجرہ کے رضاکاروں کے لئے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔ گراہم بارڈرزلی انسانیت کو مذاہب کے خانوں میں بانٹنے کے قائل نہیں۔ وہ یقینی بناتے ہیں کہ مسجد کے رضاکار اسپتال کے قواعد و ضوابط کی پابندی کریں۔ اس کے لئے رضاکار تیمارداروں کی خصوصی تربیتی کلاس ہوتی ہے۔ انہیں ٹی بی اور فلو کی ویکسین لگوانا ہوتی ہے۔ ویکسینیشن کے بعد رضاکاروں کو اسپتال کے شناختی بیجز جاری کئے جاتے ہیں، جن پر یہ درج ہوتا ہے کہ ان کی ضروری ویکسینیشن ہو چکی ہے۔ اب رضاکار کسی بھی وقت اسپتال میں مریض دیکھنے آ سکتے ہیں۔

گراہم بارڈرزلی کے مطابق، مریضوں کی تیمارداری کے لئے رضاکارانہ طور پر اسپتال آنے والوں کی زیادہ تعداد یا تو مسجد سے آتی ہے یا پھر چرچ سے، یعنی مسلمان اور کیتھولک عیسائی گروہ اپنے اپنے عقیدے کے تنہا مریضوں کی تیمارداری کرنے میں سب سےزیادہ سرگرم ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں قیام کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی معاشرے ایک عرصے تک جسم کی ہر تکلیف کا الگ الگ علاج کرنے کی کوششں میں مصروف رہے۔ لیکن اب مغرب میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ جسم اور روح کے عارضوں کا آپس میں گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ اور ان دونوں کا علاج الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بارڈرزلی کے بقول، یہ احساس مشرقی معاشروں میں ہمیشہ سے موجود تھا۔

دارالحجرہ مسجد کے رابطے کے پروگرام کے سربراہ، امام جوہری عبدالمالک کہتے ہیں کہ ’’کئی بار ہم سوچتے ہیں کہ وہ لوگ جو اسپتال میں مریضوں کو دیکھتے ہیں، وہ کسی بیمار شخص کو کچھ دے رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت میں جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس کے بدلے میں انہیں بہت کچھ ملے گا۔ ایسا جو صرف ان کے اور اللہ کے درمیان ہے کہ وہ ایک ایسے انسان کے پاس موجود تھے جو بیمار تھا یا تکلیف میں تھا۔‘‘

ثریا حسین رضاکار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے بچے چھوٹے ہیں۔ اس لئے وہ رات کو اپنے بچوں کو سلا کر اسپتال میں مریضوں کا حال پوچھنے آتی ہیں۔ عموماً نئی ماں بننے والی خواتین رات کو بے خوابی کا شکار ہوتی ہیں اور اسپتال کے اجنبی ماحول میں تنہائی محسوس کرتی ہیں۔ ایسے میں ثریا کے بقول، ’’انہیں اچھا لگتا ہے جب میں ان کے پاس بیٹھ کر کچھ دیر ان سے باتیں کرتی ہوں‘‘۔ ثریا کہتی ہیں کہ اسلام میں مریضوں کا حال پوچھنے کا بہت بڑا اجر ہے۔

لیالی خلف بھی رضا کار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم کسی غیر مسلم مریض کے دروازے پر دستک دےکر ان کی طبیعت دریافت کرتے ہیں، تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور اسلام کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔

ایلیا حماد کے بقول، انہیں ایک خاتون نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ انہوں نے اپنی بچی کا نام ایلیا حماد سے متاثر ہو کر ایلیا رکھا ہے، کیونکہ ان کی بچی کی پیدائش کے روز ایلیا نے اسپتال کے کمرے میں آکر ان کی دلجوئی کی تھی۔

ایلیا حماد کو وہ غیر مسلم ماں بھی خوب یاد ہے جو اسپتال کے کمرے میں اپنے مردہ بچے کو نئے کپڑے پہنا کر گود میں لئے بیٹھی تھی، کیونکہ وہ اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔

ایلیا کہتی ہیں کہ تیمارداری کا پروگرام نیا ہونے کی وجہ سے میں یہ نہ جان سکی کہ اسپتال کے اس کمرے کے دروازے پر ایک سفید پھول کا نشان تھا جس کا مطلب ہوتا ہے کہ نو زائیدہ بچہ جانبر نہیں ہو سکا‘‘۔ ایلیا نے کہا کہ ان کے لئے یہ بےحد جذباتی لمحہ تھا، جب انہوں نے اس غیر مسلم ماں اور مسلمان باپ کے نوزائیدہ بچے کے لئے بلند آواز میں عربی زبان میں دعا پڑھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’اس کمرے میں موجود سب لوگ رو رہے تھے۔ میں بھی رو رہی تھی۔ اور سوچ رہی تھی کہ یہ ہے ہمارا مذہب ہے۔جو کسی تخصیص کے بغیر سب کو دعا میں شامل رکھتا

ہے۔ رپورٹ کی وڈیو دیکھنے کے لئے کلک کیجیئے:

XS
SM
MD
LG