رسائی کے لنکس

ریمنڈ ڈیوس کے معاملے سے پاکستانی سیاست میں مدوجزر


لاہور میں لوگ اس جگہ کا مائنہ کررہے ہیں جہاں مبینہ طور پر ایک امریکی شہری نے دو پاکستانیوں کو گولیاں مارکر قتل کردیا۔ امریکی حکومت کے مطابق اس شہری کو سفارتی استثنا حاصل ہے۔

لاہور میں لوگ اس جگہ کا مائنہ کررہے ہیں جہاں مبینہ طور پر ایک امریکی شہری نے دو پاکستانیوں کو گولیاں مارکر قتل کردیا۔ امریکی حکومت کے مطابق اس شہری کو سفارتی استثنا حاصل ہے۔

پاکستان میں ان دنوں ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ زبردست موضوع بحث بناہوا ہے اور اب تو عدالتی ایوانوں میں بھی ریمنڈ ڈیوس معاملے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اس معاملے کوہاتھوں ہاتھ لے کر اس پر سیاست کاا ٓغاز کردیا ہے۔ کچھ عناصر اس معاملے کو پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے اس قدر اہم سمجھتے ہیں کہ ان کے نزدیک ریمنڈ ڈیوس معاملہ پاک امریکا تعلقات کی نئی سمت متعین کرے گا۔

مبصرین کے مطابق 27 جنوری کو لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیداہو گیا ہے کیونکہ دہشت گردوں کے امریکا مخالف جذبات پر اس معاملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں سے ہمدردی رکھنے والے بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اگر جلسے جلوس ہونے لگے اور سڑکوں پر نعرے بازی عام ہوگئی تو خدشہ ہے کہ کہیں یہ معاملہ حساسیت کی حدود کو نہ چھونے لگے۔

مبصرین کے مطابق دہشت گرد ڈیوس کے معاملے پر ہونے والی پاک امریکا بحث سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم مبصرین نے فوری طور پر یہ بتانے سے انکار کیا کہ دہشت گردوں کی جانب سے کس قسم کا رد عمل سامنے آسکتا ہے۔ تاہم کچھ مبصرین یہ بھی خیال کررہے ہیں کہ پاکستان میں امریکی اہداف کے گرد دائرے کھینچ سکتے ہیں۔

ریاست اور ملکی امور پر تبصرے کے ماہرین کے نزدیک ڈرون حملے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس، افغانستان میں موجود نیٹو ہیلی کاپٹرز کی جانب سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی اور پاکستان میں نیٹو کنٹینرکو نذر آتش کرنا ایسے معاملات تھے جن پر عوامی سطح پر امریکا کے خلاف شدید اور منفی رد عمل پایا جاتا تھا۔ ان معاملات پر وقت کی گرد پڑ ہی رہی تھی کہ ریمنڈ ڈیوس کیس نے انہیں پھر سے ابھرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ ان مبصرین کے نزدیک شہروں کی دیواریں امریکا مخالف نعروں سے ایک مرتبہ پھر سرخ ہونے کو ہیں۔

کراچی کے رہائشی اور مذہبی جذبات رکھنے والے نسیم اختر کا کہنا ہے کہ ڈیوس کے معاملے پر پاکستانی اور امریکی رائے میں اختلاف ہے ۔ امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ان کا شہری سفارت خانے کا اہلکار ہے اور سفارتی آداب کے تحت اسے مقامی قوانین سے استثنیٰ حاصل ہے لہذا اسے رہا کیا جائے جبکہ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے لہذا عدالتی فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کی جا سکتی ۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکم دیا تھا کہ ڈیوس کا نام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے۔ لہذا اس حوالے سے بدھ کو سینیٹ اجلاس میں وزیر داخلہ رحمن ملک نے بتایا کہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے امریکی شہری کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔رحمن ملک نے یہ بھی واضح کیا کہ وفاق کی طرف سے پنجاب حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا ۔

دوسری جانب وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس حوالے سے عدالتی فیصلہ من و عن تسلیم کیا جائے گا لیکن مبصرین کے مطابق ریمنڈ ڈیوس سے متعلق عدالتی فیصلہ کیا ہو گا اور اس پر دونوں ممالک کی جانب سے کیا رد عمل سامنے آئے گا اس حوالے سے کچھ بھی کہنا ابھی قبل وقت ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان اگرکوئی اختلاف رائے ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ دہشت گرد اٹھا سکتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG