رسائی کے لنکس

ڈیوس کیس: جمعرات کی سماعت میں حل کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے: محکمہ ٴ خارجہ


ڈیوس کیس: جمعرات کی سماعت میں حل کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے: محکمہ ٴ خارجہ

ڈیوس کیس: جمعرات کی سماعت میں حل کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے: محکمہ ٴ خارجہ

‘ہمارا خیال ہے کہ سفارتی استثنیٰ ایک حقیقت ہے اور ہمارے نقطہٴ نظر کے مطابق یہ کوئی متنازع معاملہ نہیں ہے‘

امریکی حکام کو توقع ہے کہ جمعرات کو لاہور میں عدالت کی سماعت میں محکمہٴ خارجہ کے ملازم کی گرفتاری کے معاملے کو حل کرنے کا راستہ نکل آئے گا۔

اُن پر الزام ہے کہ تین ہفتے قبل مبینہ طور پر ان پر ڈاکہ زنی کی کوشش کی گئی اور اس نے دفاع میں دو پاکستانیوں کو ہلاک کردیا۔ ریمنڈ ڈیوس پاکستانی تحویل میں ہے، جبکہ امریکہ کا اصرار ہے کہ اُنھیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کا کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ مگر اس کے باوجود، لاہور ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن داخل کی جائے گی تاکہ اس کی رہائی ممکن ہو سکے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کا 36سالہ ملازم 27جنوری سے لاہور میں قید ہے اور اس کے مطابق اُنھوں نے لاہور کی ایک سڑک پر اُس وقت دو پاکستانیوں کو ہلاک کر دیا جب وہ اُسے پستول کی نوک پر لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پاکستانی پولیس نے ڈیوس کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کا مرتکب قرار دیا ہے۔

صدر براک اوباما نے پیر کے روز اپنی ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور اسے فوری طور پر رہا کردینا چاہیئے، جب کہ حکومت ِپاکستان کا کہنا ہے کہ استثنیٰ کے معاملے کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

امکانی طور پر فیصلہ کن سماعت کے بارے میں امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے اس بات کو دہرایا کہ امریکی مؤقف کے مطابق ڈیوس کو گرفتار نہیں رہنا چاہیئے۔ اُن کے بقول، ہمارا خیال ہے کہ سفارتی استثنیٰ ایک حقیقت ہے اور ہمارے نقطہٴ نظر کے مطابق یہ کوئی متنازع معاملہ نہیں ہے۔ یقیناً یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جس کا فیصلہ پاکستان کی عدالتیں کریں۔ کل سماعت ہوگی اور ہم عدالت کے سامنے اپنی پیشیٹن پیش کریں گے کہ درحقیقت اِسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔

اس کیس کے بارے میں پاکستان میں ہونے والے عوامی ردِ عمل کے پیشِ نظر سینیٹ کی امورِ خارجہ کمیٹی کے چیرمین جان کیری نے اس ہفتے پاکستان کا دورہ کیا اور اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے امریکہ کی طرف سے اظہارِ افسوس کیا۔ جان کیری نے یہ بھی کہا کہ ڈیوس جب رہا ہو کر امریکہ پہنچے گا تو اس کے اس طرزِ عمل کے بارے میں تعزیراتی تحقیقات کی جائیں گی۔

ترجمان کرولی نے کہا کہ اس طرح کے معاملات کے بارے میں تفتیش امریکہ کی معمول کی کارروائی ہے۔

جیسا کہ محکمہٴ انصاف نے کہا ہے کہ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے۔ بیرون ملک امریکی شہری کسی ایسی کارروائی میں ملوث پائے جائیں جن سے انسانی زندگیاں ضائع ہوئی ہوں تو ہم خود اُن کی تحقیقات کرتے ہیں۔ اب یہ تحقیقات کس نتیجے پر پہنچیں گی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتے۔

XS
SM
MD
LG