رسائی کے لنکس

حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مُرجھا گئے

  • صفیہ کاظم

نیو ٹاؤن میں ایک بین المذاہب تعزیتی اجلاس ہوا جس میں ایک یہودی مذہبی پیشوا نے عبرانی زبان میں دعا پڑھی، جب کہ مقامی اسلامی سینٹر سے وابستہ ایک مسلمان بچے نے قرآنی آیات پڑھیں۔ صدر اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’قوم کی دعائیں اور محبتیں‘ نیو ٹاؤن کے لوگوں کے ساتھ ہیں

گذشتہ جمعے کو امریکی ریاست کنیٹی کٹ کے نیو ٹاؤن شہر کے سینڈی ہُک ایلیمنٹری اسکول میں ایک بیس سالہ لڑکے نے اندھا دھند فائرنگ کی، جِس کے نتیجے میں 20معصوم بچے جِن کی عمریں چھ سے 10سال کے درمیان تھیں، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ چھ دیگر افراد ہلاک ہوئے۔

اُسی شام صدر اوباما نے، جو خود بھی دو بیٹیوں وں کے باپ ہیں، اپنے ردِ عمل کا اظہار کرنے کے لیے نیو ٹاؤن گئے۔

اِس موقع پر نیو ٹاؤن میں ایک بین المذاہب تعزیتی اجلاس ہوا، جس میں ایک ربی نے عبرانی زبان میں دعا پڑھی اور مقامی اسلامی سینٹر سے وابستہ ایک مسلمان بچے نے قرآنی آیات پڑھیں۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ قوم کی دعائیں اور محبتیں نیو ٹاؤن کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ میں صرف یہ امید کرسکتا ہوں کہ اس دکھ میں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ شاید اس لیے آپ کی کچھ حوصلہ افزائی ہو۔

امریکہ بھر کے لوگ آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

صدر اوباما نے رقت آمیز لہجے میں امریکہ کے تمام خاندانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آج رات وہ اپنے بچوں کو اور بھی زیادہ چمٹا کر گلے لگائیں گے۔ اُن کے الفاظ میں، اِس سانحے پر ملک کے تمام لوگ بلا کسی رنگ و نسل کے خون کے آنسو روئے ہیں۔

کانگریشنل چرچ منستر نے کہا کہ ہم یہاں افسوس کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، تاکہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو سکیں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تاریک دِن ہمیشہ نہیں رہیں گے۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG