رسائی کے لنکس

جب سے خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں اموات کی تعداد بڑھی ہے اور بیشتر اوقات جسم کے ٹکڑے تک سمیٹنے پڑتے ہیں۔ لہذا، ایسے میں لاشوں کو تابوت میں رکھنا اور سپردخاک کرنا ضروری ہوگیا ہے

پشاور سمیت، خیبر پختونخواہ اور دیگر اطرافی علاقوں میں ایک عشرے سے عسکریت پسندوں کی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔

لیکن، ان حالات میں بھی ایک کاروبار ایسا ہے جس میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آئی ہے۔ یہ کاروبار ہے تابوت سازی اور اس کی فروخت کا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر پاکستان میں آخری رسومات کی ادائیگی میں تابوت کی حیثیت کوئی معنی نہیں رکھتی کیوں کہ میت گہوارے میں رکھ کر سپرد خاک کردی جاتی ہے۔

لیکن، جب سے خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں اموات کی تعداد بڑھی ہے اور بیشتر اوقات جسم کے ٹکڑے تک سمیٹنے پڑتے ہیں، لہذا ایسے میں لاشوں کو تابوت میں رکھنا اور سپرد خاک کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں ایک مقامی تابوت ساز اور بڑھئی جہانزیب خان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ پہلے ایک دن میں مشکل سے دو یا تین تابوت ہی فروخت کر پاتا تھا، مگر جب سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے تابوت کی ڈیمانڈ بھی بڑھ گئی ہے۔

جہانزیب کے مطابق، تابوتوں کی ڈیمانڈ میں 2004ء کے بعد سے اچانک تیزی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG