رسائی کے لنکس

پاکستان نے دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ معصوم شہریوں پر بزدلانہ حملے میں پاکستان افغان عوام کے دکھ میں شریک ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے مختلف دہشت گرد حملوں میں 50 سے زائد افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کے بعد صورتحال خاصی کشیدہ ہے جب کہ ہفتہ کو سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

24 گھنٹوں کے دوران یہ حملے پولیس، فوج اور نیٹو کی تنصیبات پر ہوئے جس سے جمعہ کابل کی حالیہ تاریخ میں ہلاکت خیز دن رہا جب کہ گزشتہ ہفتے طالبان کے امیر ملا عمر کے انتقال کی خبر کے بعد افغانستان میں کسی ایک ہی دن میں یہ سب سے مہلک حملے تھے۔

جمعہ کو رات دیر گئے کابل میں ہوائی اڈے کے قریب نیٹو فورس کی ایک تنصیب پر حملہ کیا گیا، لڑائی میں حکام کے مطابق افغانستان میں نیٹو کے ’ریزلیوٹ اسپورٹ مشن‘ کا ایک اہلکار اور آٹھ دیگر افراد ہلاک ہوئے۔

کابل کے رہائشی حاجی حفیظ اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "رات کو دیر گیے عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز میں لڑائی شروع ہوئی جو کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہی، یہ بہت ہی شدید لڑائی تھی۔"

اس سے قبل جمعہ کی شام افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پولیس اکیڈمی پر خودکش بم حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان پولیس کے عہدیداروں کے مطابق خودکش بمبار نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی اور وقفے کے بعد اکیڈمی میں واپس آنے والے زیرتربیت افراد میں گھل مل گیا۔

پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے سے کچھ گھنٹے قبل ہی کابل میں ایک فوجی کمپاؤنڈ کے قریب طاقتور بم دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور لگ بھگ 240 زخمی ہو گئے۔

بارودی مواد ایک ٹرک میں چھپایا گیا تھا، جس میں ہونے والے زوردار دھماکے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

ہلاک و زخمی ہونے والے زیادہ تر عام شہری تھے۔ فوجی احاطے کے قریب ہونے والا دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکے سے متاثر ہونے والے روح اللہ جان کہتے ہیں کہ " دھماکے کے وقت میں اپنے تین بھائیوں کے ساتھ گھر پر تھا کہ کھڑکی کے شیشے کا ایک بڑا ٹکڑا ٹوٹ کر میرے سر پر لگا۔ میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا وہ سب ٹھیک تھے، اس کے بعد مجھے کچھ معلوم نہیں۔ جب میری آنکھیں کھلیں تو میں نے خود کو اسپتال میں پایا۔"

ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ جو کوئی بھی اس دھماکے پیچھے ہے اُسے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں حالیہ مہینوں میں طالبان کی شدت پسندانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور آئے روز کسی نہ کسی حصے سے ہلاکت خیز واقعے کی اطلاع سامنے آتی رہتی ہے۔

پاکستان نے کابل میں خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں پر بزدلانہ حملے سے افغان عوام کو پہنچنے والے دکھ میں پاکستان ان کے ساتھ شریک ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں ایک بار پھر کہا گیا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

مزید برآں افغانستان کی حکومت کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

افغانستان میں حالیہ حملوں کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے مستقبل سے متعلق بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل ملا عمر کے انتقال کی خبروں کے بعد موخر ہوا ہے، ختم نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان کی جو بھی قیادت سامنے آئے وہ دیرپا امن کے لیے صلح اور مصالحت کا راستہ اختیار کرے۔

XS
SM
MD
LG