رسائی کے لنکس

طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے حال ہی میں انسانی جین سے لیبارٹری میں تیار کردہ مصنوعی خلیوں کی مدد سے بہرے چوہوں کی سماعت جزوی طور پر بحال کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انسانی جین پر تحقیق کے حیرت انگیز نتائج سامنے آرہے ہیں اور کئی ایسی بیماریوں اور خرابیوں پر قابو پانا ممکن ہوتا جارہاہے جنہیں اب تک لاعلاج سمجھا جاتاہے۔

میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے حال ہی میں انسانی جین سے لیبارٹری میں تیاکردہ مصنوعی خلیوں کی مدد سے بہرے چوہوں کی سماعت جزوی طور پر بحال کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔


ماہرین کا کہناہے کہ اس طریقہ علاج کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم تین لاکھ ایسے افراد کی قوت سماعت واپس لانے میں مدد مل سکتی ہے جو بعض وجوہات کی بنا پر اپنی سماعت کھوبیٹھے تھے۔

بہرے پن کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ بعض افراد پیدائشی بہرے ہوتے ہیں جس کی وجہ سماعت سے متعلق دماغ کے حصوں کی خرابی، یا کان کے ان اعصاب میں خلل کا ہونا ہے جو دماغ کو پیغامات منتقل کرتے ہیں۔ جب کہ بہرے پن کی دوسری وجہ اچانک دھماکے ، یا کسی حادثے یا کسی اور وجہ سے کان کے سماعتی اعصاب کا خراب ہوجاناہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ زندگی کے کسی دور میں بہرے ہوجانے والے افراد کی سماعت واپس لانا ممکن ہے ۔ لیکن یہ ایک دشوار کام ہے اور چوہوں پر حالیہ کامیاب تجرے اس جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس تجربے کے لیے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ٹیسٹ ٹیوب میں مصنوعی سٹم سیل تیار کیے اور انہیں انجکشن کے ذریعے چوہوں کے کان کے اس حصے میں داخل کیا جہاں سماعت کے خلیے مردہ ہوچکے تھے ۔ مصنوعی خلیے متاثرہ حصے میں جاکر متحرک ہوگئے جس سے عمومی طور پر ان کی 45 فی صد تک سماعت بحال ہوگئی ۔

جریدے نیچر جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اس مطالیاتی تحقیق کی تفصیلات کی بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انسانی جنین سے سٹم سیل لینے کے بعدکیمیکلز کی مدد سے اس کی مدد سے سماعت کے خلیے تیار کیے۔


تجربے کے اگلے مرحلے میں انہوں نے مخصوص دواؤں کے دریعے 18 چوہوں کا ایک ایک کان بہرا کردیا۔ جب ان کے بہرا ہونے کی تصدیق ہوگئی تو متاثرہ کان میں بھاری مقدار میں لیبارٹری میں تیارہ کردہ سماعتی خلیوں کے ٹیکے لگائے گئے۔

یہ خلیے آواز کو مخصوص اعصابی پیغامات میں بدلنے کے بعد انہیں دماغ کو منتقل کرتے ہیں۔

چوہوں کے متاثرہ کانوں کے معائنے سے پتا چلا کہ لیبارٹری میں بنائے گئے تقریباً ایک تہائی خلیوں نے خراب اعصابی خلیوں کی جگہ سنبھال کرسننے کا عمل شروع کردیا تھا۔

چوہوں کے دماغ کی الیکٹرانک تصویروں کے نتائج کے مطابق دس ہفتوں کے بعد ان کی اوسطاً45 فی صد سماعت واپس آگئی تھی۔

لیکن سائنس دانوں کا کہناتھا کہ تجربات میں شامل تمام چوہوں پر سٹم سیل کا ایک جیسا اثر نہیں ہوا۔ کچھ چوہوں کی سماعت 90 فی صد تک واپس آگئی اور کچھ میں بہتری کی شرح بہت معمولی تھی۔ نتائج کا دارومدار اس پر تھا کہ کتنے مصنوعی خلیوں نے کان میں اپنے لیے جگہ بناکر کام شروع کردیاتھا۔

سائنس دان اپنی اس تحقیق سے اتنے مطمئن ہیں کہ ان کا کہناہے کہ جب لیبارٹری میں بنائے گئے خلیوں کا انسانوں میں استعمال شروع کردیا جائے گا تو ایسے افراد جو اپنے قریب سے گذرنے والے ٹرک کی آواز تک نہیں سن سکتے، ایک پرہجوم کمرے کے شور شرابے میں دوافراد کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی سن سکیں گے۔


سائنس دانوں نے اس تحقیق کو بہرے افراد کی قوت سماعت کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم قراردیتے ہوئے کہاہے کہ انسانوں میں مصنوعی خلیوں کا استعمال شروع کرنے سے قبل مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مارسیلو ری وولٹا کا، جو اس سائنسی مطالعے کے سربراہ ہیں، کہناہے کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ہم یہ طریقہ انسانوں کے علاج کے لیے کب استعمال کرسکیں گے۔ کیونکہ ہمیں پہلے کان کی بیالوجی پر سٹم سیل کے اثرات کا گہری نظر سے مشاہدہ کرنا ہوگا اور یہ جاننا ہوگا کہ آیا یہ طریقہ علاج عارضی ہے یا دیرپا اور یہ کہ آیا اس کا استعمال انسان کے لیے محفوظ بھی ہے یا نہیں اور یہ کہ اسے مؤثر اور محفوظ بنانے کے لیےکیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

چوہوں پر سٹم سیل کے کامیاب تجربات نے سائنس دانوں کو روشنی کی ایک نئی کرن دکھائی ہے اور انہیں توقع ہے کہ وہ دن دور نہیں جب سماعت سے محروم افراد عام لوگوں کی طرح سننے کے قابل ہوجائیں گے۔
XS
SM
MD
LG