رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ: برطانوی جوڑے کے قاتلوں کو موت کی سزا


ملزمان کا دعویٰ ہے کہ تشدد کے ذریعے ان سے اعتراف جرم کروایا گیا جب کہ انھیں تفتیش کاروں کی طرف سے مبینہ طور پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے میانمار کے دو تارکین وطن محنت کشوں کو ایک برطانوی سیاح جوڑے کے قتل کے جرم میں جمعرات کو سزائے موت سنائی ہے۔

زائی لِن اور وائی فیو کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے کہ کیونکہ ان مشتبہ افراد کا تعلق قتل سے جوڑنے کے لیے استعمال کیے گئے شواہد مبینہ طور پر ناکافی یا خراب تھے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جسٹس کے ایشیا کے لیے ڈائریکٹر سام ظریفی کا کہنا ہے کہ "ہمیں معلوم ہوا ہے کہ قتل ہونے والوں کے لواحقین ابھی تک اصل اسباب جاننے کے منتطر ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دونوں مشتبہ افراد کے اہل خانہ بھی تھائی نظام انصاف سے انصاف کی امید پر نظر لگائے بیٹھے ہیں اور یہ تھائی لینڈ کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے بہت ہی سنگین معاملہ ہے۔"

میانمار سے تعلق رکھنے والے دونوں مشتبہ افراد پر الزام تھا کہ انھوں نے گزشتہ سال ستمبر میں جزیرہ کوہ تاؤ میں ڈیوڈ ملر اور ہنا ودرج کو قتل کیا۔

ان مبینہ قاتلوں کی عمر 22 سال ہے اور وہ اسی جزیرے پر ایک بار میں کام کرتے تھے۔ انھیں قتل کی واردات کے دو ہفتوں بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ملزمان کا دعویٰ ہے کہ تشدد کے ذریعے ان سے اعتراف جرم کروایا گیا جب کہ انھیں تفتیش کاروں کی طرف سے مبینہ طور پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ پولیس ان دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔

قتل کیے جانے والے افراد کے سر پر شدید زخم آئے تھے جب کہ حکام کے مطابق ہنا ودرج کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا اور اس بنا پر ملزمان کو بیس سال اضافی قید کی سزا بھی سنائی گئی۔

برطانوی ذرائع ابلاغ میں بعض ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ اس جوڑے کا جزیرے پر قتل کی رات کسی سے جھگڑا ہوا تھا جس سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس میں مبینہ طور پر کوہ تاؤ کی بااثر برادری کے لوگ اس قتل میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG