رسائی کے لنکس

لاہور: فیکٹری کی عمارت گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 53 ہو گئی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بدھ کی شام سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں چارمنزلہ عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی جس کے ملبے کو ہٹانے اور اس میں دبے افراد کو نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے۔

ایک پاکستانی عہدیدار جام سجاد حسین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے فیکٹری کی عمارت منہدم ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے۔

گزشتہ بدھ کی شام سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاسٹک بیگ بنانے والی فیکٹری کی چارمنزلہ عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی جس کے ملبے کو ہٹانے اور اس میں دبے افراد کو نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے۔

ملبے سے سو سے زائد افراد کو زندہ نکال لیا گیا جن میں ایک 18 سالہ لڑکا بھی شامل تھا جس کے لواحقین اسے مردہ سمجھ بیٹھے تھے۔

جمعہ کو دیر گئے اس وقت امدادی کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جب انھوں نے تقریباً 50 گھنٹوں کے بعد ملبے تلے سے ایک نوجوان کو زندہ حالت میں نکالا۔

شاہد نامی اس نوجوان کے گھر والے اس سے قبل ایک ناقابل شناخت لاش کو اپنا بیٹا سمجھ کر سپرد خاک کر چکے تھے لیکن یہ خبر ان کے لیے بھی کسی خوشگوار حیرت سے کم نہیں تھی۔

اتوار کے شام تک امدادی حکام نے نصف کے قریب ملبے میں تلاش کا کام مکمل کر لیا تھا۔ کئی دن گزرنے کے بعد اب اس حادثے میں زندہ بچنے والوں کی امید معدوم ہو گئی ہے۔ تاہم ملبے سے مرنے والوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

عمارت گرنے کا واقعہ افغانستان میں ایک طاقتور زلزلہ آنے کے ایک ہفتے بعد پیش آیا جس میں پاکستان اور افغانستان میں 400 کے لگ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق زلزلے سے فیکٹری کی عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچا تھا۔

XS
SM
MD
LG