رسائی کے لنکس

لیہ: زہریلی مٹھائی کھانے سے ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو گئی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لیہ کے ضلعی رابطہ افسر رانا گلزار نے بتایا ہے کہ مٹھائی کے مزید تجزیوں کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اُس میں فصلوں پر چھڑکنے والی کیڑے مار دوا شامل تھی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ میں زہریلی مٹھائی کھانے سے ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ ضلع لیہ کے ایک گاؤں میں ایک شخص نے اپنے بیٹے کی پیدائش پر مٹھائی تیار کروائی اور اُسے لوگوں میں تقسیم کیا۔

مٹھائی کھانے کے بعد لوگوں کی طبعیت بگڑنا شروع ہو گئی اور اُنھیں لیہ اور ملتان کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران کئی افراد ہلاک ہو گئے جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

لیہ کے ضلعی رابطہ افسر رانا گلزار احمد نے پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے جب کہ اُن کے بقول 13 افراد اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

حکام کے مطابق زہریلی مٹھائی کھانے کے بعد اسپتالوں میں لائے گئے درجنوں افراد کو علاج کے بعد اُن کے گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر پولیس کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ مٹھائی میں زہریلے مواد کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔

لیکن اب لیہ کے ضلعی رابطہ افسر رانا گلزار نے بتایا ہے کہ مٹھائی کے مزید تجزیوں کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اُس میں فصلوں پر چھڑکنے والی کیڑے مار دوا شامل تھی۔

رانا گلزار کے مطابق کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا یہ دوا جان بوجھ کر مٹھائی میں ملائی گئی یا ایسا غلطی سے ہوا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور تین افراد پولیس کی حراست میں ہیں جن میں مٹھائی کی دوکان کا مالک بھی شامل ہے۔

دریں اثنا پنجاب کے شہر فیصل آباد میں اتوار کو مبینہ طور پر زہریلا دودھ سوڈا پینے کے بعد ایک سو سے زائد افراد کی طبعیت بگڑ گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص نے اپنی مشروبات کی دوکان کے افتتاح کے موقع پر لوگوں کو مفت دوھ سوڈا فراہم کیا جس کے پینے کی وجہ سے لگ بھگ 130 افراد کی طبعیت اچانک بگڑ گئی جن میں 80 کے قریب بچے بھی شامل تھے۔

ان افراد کو علاج کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا تاہم اب بھی 60 سے زائد افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں معدے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر خواجہ وسیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس طرح کے واقعات کھانے پینے کی اشیا میں غیر معیاری چیزوں کی ملاوٹ کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔

پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں تاہم ضلع لیہ کے گاؤں میں زہریلی مٹھائی کھانے سے ہونے والے ہلاکتوں کا معاملہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس پر ملک بھر میں مختلف حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔

جب کہ حکومت سے یہ مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے۔

XS
SM
MD
LG