رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

  • یاسمین جمیل

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

کریڈٹ ریٹنگ کے ادارے اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز یا ایس اینڈ پی نے امریکہ کو ستر سال قبل، 1941 میں دی جانے والی ٹرپل اے کی ریٹنگ کو پہلی بار گھٹا کر اسے ڈبل اے پلس کر دیا ہے اوروفاقی حکومت کواب شاید اندرون ملک اور بیرون ملک بونڈ ہولڈرز کو ہر سال سود کی رقم میں سو ارب ڈالر اضافی ادا کرنے ہوں گے۔

اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکہ میں قرضوں کے بحران اور اس سے نمٹنے کے لیے کانگریس میں طے پانے والے حالیہ معاہدے کواپنے ایک اداریے کا موضوع بناتے ہوئے لکھا ہے کہ 2008ءمیں شروع ہونےو الے اقتصادی بحران نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ ہم ایسے بینکوں کے ساتھ کس طرح رہا جاسکتا ہےان کی بے پناہ وسعت ان کی ناکامی کے خطرے کے طورپر سامنے آرہی ہو، دوسرا یہ کہ ہم کسی مالی بحران کے دوران کس طرح مالیاتی بحرانوں کو ناگزیر بنانے والے مالی امداد کےپیکیجز کے بغیر مالیاتی اداروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ اوراخبار لکھتا ہے کہ اب ہمیں ایک تیسرے سوال کا اضافہ کر دینا چاہیے کہ کسی مالیاتی بحران کے بعد ہم کس طرح مقتدر سیاسی شخصیات کو ایسی پالیسیاں متعارف کرانے سے فوری طور پر روک سکتے ہیں جو مالیاتی بحران کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہوں ۔

اخبار لکھتا ہے کہ اگرچہ قرض کے بحران سے بحالی عام طور پر ہمیشہ ہی سست روی سے ہوتی ہے لیکن کمپنیوں کے بڑے بڑے سی ای اوز کو ہٹائے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ۔ اخبار لکھتا ہے کہ بجائے اس کے کہ مفید سرمایہ کاریوں کے لیے فنڈز فراہم کر کے مزید روزگار پیدا کیے جاتے جس سے ملکی معیشت ترقی کرتی ، ہم نے اپنے قرضو ں کو بڑے بڑے عہدوں کی مراعات اور حکومت کے سائز میں اضافے پر خرچ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

اخبار مزید لکھتا ہےکہ صحت کی دیکھ بھال میں ہم نے اصلاحات کی بجائے فری لنچ ازم کو دوگنا کر دیاہے ۔ بینکنگ میں ہم نے خطرے سے دوچار بنکوں کو لگامیں ڈالنے کی بجائے انہیں اتنا بڑا بنانے کی راہ اپنائی ہے جس سے ان کے ناکام ہونے کا خطرہ بڑھ جائے۔

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

اخبارمسٹر اوباما کی جانب سے فیڈرل انفرا اسٹرکچر بینک کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس سے ٹیکسوں کے ڈالروں پر بیورکریٹس کی افسری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔

اخبار لکھتا ہے کہ تمام اقتصادی بحران مختلف انداز میں شروع ہوتے ہیں ۔ موجودہ بحران ہاؤزنگ سے شروع ہوا تھا، لیکن تمام اقتصادی بحران آخر کار ایک اسی پرانے بحران کو جنم دیتے ہیں اوروہ ہے بحران کے اصل حل کی فراموشی ۔ اور اس وقت مسئلے کا اصل حل فیڈرل انفرا اسٹرکچر بینک نہیں بلکہ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات ہےا ور یہ کہ کوئی انفرا اسٹرکچر بینک نہیں بلکہ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاح ہی مسٹر اوباما کی صدارت بچا سکتی ہے۔

اور شکاگو ٹریبیون نے بھی امریکہ کے قرض کی حد میں اضافے اور خساروں میں کمی کے معاہدے کو اپنے ایک اداریے کا موضوع بنایا ہے۔ اخبار لکھتاہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کئی عشروں کی اخراجات میں زیادتی کا نتیجہ جمعے کی رات ا مریکی کریڈٹ کی ساکھ متاثر ہونے کی صورت میں سامنے آیا ۔ اخبار لکھتا ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کے ادارے اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز یا ایس اینڈ پی نے امریکہ کو ستر سال قبل، 1941 میں دی جانے والی ٹرپل اے کی ریٹنگ کو پہلی بار گھٹا کر اسے ڈبل اے پلس کر دیا ہے اوروفاقی حکومت کواب شاید اندرون ملک اور بیرون ملک بونڈ ہولڈرز کو ہر سال سود کی رقم میں سو ارب ڈالر اضافی ادا کرنے ہوں گے۔ جب کہ ریٹنگ میں کمی سے قرضوں میں جکڑی ریاستیں، اور قرض پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی مقامی حکومتوں کے ساتھ ساتھ صارفین بھی متاثر ہوں گے جن کے مارٹگیج اور قرضوں کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

اخبار لکھتا ہے کہ اب تک تو صرف ایس اینڈ پی نے ہی امریکی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کی ہے لیکن دوسری بڑی کریٹ ایجنسیوں نے بھی انتباہ کر دیا ہے کہ اگر قانون سازوں نے قرضے کم نہ کیے اور معیشت کمزور ہوئی تو وہ بھی اپنی ریٹنگز کم کر دیں گی ۔

اس امکانی صورتحال کے پیش نظر اخبار مشورہ دیتا ہے کہ کانگریس اور وہائٹ ہاؤس کو اپنا بڑھتا ہوا خسارہ کم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور یہ کمی ایک کے مقابلے میں تین یا چار کے تناسب سے ہونی چاہیے ۔جب کہ انہیں اپنے اخراجات میں کمی اور محصولات میں اضافہ بھی کرنا چاہیے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگر کریڈٹ ریٹنگ کم ہو سکتی ہے تووہ بڑھ بھی سکتی ہے ۔ اور واشنگٹن جتنی جلد خساروں میں نمایاں کمی کر لے گا اتنا ہی ا س کے لیے اور ہم سب کے لیے بہتر ہوگا۔

اور اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے اپنے ایک اداریے میں سائنسدانوں کے طرف سے اس انتباہ کو اپنا موضوع بنایا ہے کہ اگر پولٹری اور لائیو اسٹاک کو باقاعدگی سے اینٹی بائیوٹکس دیے جانے کا عشروں سے جاری سلسلہ بر قراررہا تو اس سے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے نئے بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں ۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکی فیکٹری فارمز میں ایک پریشان کن پریکٹس اینٹی بائیو ٹکس کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے جو پولٹری اور لائیو اسٹاک کو بیماریوں کے علاج کےلیے ہی نہیں بلکہ ان کی روک تھام کے لیے بھی باقاعدگی سے دی جاتی ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ سائنسدان کئی عشروں سے انتباہ کر رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں اینٹی بائیو ٹکس کے خلاف مزاحمت کے ایسے نئے بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں جن کا نہ صرف یہ کہ علاج مشکل ہو سکتا ہے بلکہ وہ انسانوں میں بھی لاعلاج بیماریوں کو جنم دے سکتے ہیں۔

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

امریکی اخبارات کے اداریے:قرضوں کا بحران اورجراثیم کش ادویات کے مضر اثرات

اخبار اس ضمن میں فیکٹری فارمز میں عام استعمال ہونے والی ایک اینٹی بائیوٹک Cipro, کا حوالہ دیتا ہے جو ایس کینٹکی نامی ایک نئے بیکٹیریا پر اپنا اثر تیزی سےکھو رہی ہے ۔

اخبار لکھتا ہے کہ یورپی یونین نے 2006ءمیں لائیو اسٹاک کی بیماریوں کے علاج کے سوا ان کےلیے اینٹی بائیو ٹکس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن امریکی فارم لابی کئی برسوں سے اسی قسم کے بلوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ خوراک اور ادویات کی امریکی انتظامیہ اگرچہ کاشتکاروں کے لیے یہ ہدایات جاری کر چکی ہے کہ وہ ان ادویات کا استعمال ختم کریں۔ لیکن ا س نے بھی اختیار رکھنے کے باوجود ان کے استعمال پر پابندی نہیں لگائی ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایسے میں کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا پولٹری اور لائیو اسٹاک پر استعمال انسانی صحت کے لیے بھی ایک شدید خطرہ ہے ،انکے استعمال پر پابندی کےسلسلے میں اتنی نرمی دکھانے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں ہے اور اخبار لکھتا ہے کہ اگر کانگریس اس ضابطے کی منظوری نہیں دیتی تو اوباما انتظامہ کو ایسا ضرور کرنا چاہیے ۔

XS
SM
MD
LG