رسائی کے لنکس

داعش کے خلاف حکمت عملی پر وزرائے دفاع کا اجلاس


امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر

کارٹر نے عراق اور شام میں اتحادی کاوشوں میں خطے کے ان عرب شراکت داروں کی اہمیت کو اجاگر کیا جو اس میں "قابل ذکر حصہ ڈال" سکتے ہیں۔

دنیا کے سات ملکوں کے وزرائے دفاع بدھ کو پیرس میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف جاری فوجی مہم کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ فرانس،آسٹریلیا، جرمنی، اٹلی، برطانیہ اور نیدرلینڈز کے اپنے ہم منصبوں کو وضاحت کے ساتھ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح درکار کوششوں کو بڑھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی مہم سے متعلق پہلی بار ہونے والی یہ بات چیت منصوبے کے بارے میں روبرو تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گی۔

کارٹر نے عراق اور شام میں اتحادی کاوشوں میں خطے کے ان عرب شراکت داروں کی اہمیت کو اجاگر کیا جو اس میں "قابل ذکر حصہ ڈال" سکتے ہیں۔

"میں عرصے سے یہ کہتا آیا ہوں کہ عربوں اور سنی عربوں کو اس میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم اس میں ان کی حصہ داری کا تعین کرنے میں مدد کر سکتے ہیں اور خطے میں ان کے دیر پا مفادات اور کس طرح بالآخر داعش کی شکست کے بعد حاصل ہونے والے فوائد کو اس سے جوڑا جا سکتا ہے، ان پر ان سے بات چیت کر سکتے ہیں۔"

کارٹر کا کہنا تھا کہ ان کوششوں میں سے ایک پولیس کو تربیت فراہم کرنا بھی ہو سکتا ہے "جو کہ ہمارے لیے آسان نہیں ہوگا۔"

متعدد عرب ممالک کے لڑاکا جہاز داعش کے خلاف عراق اور شام میں امریکہ کی زیر قیادت اتحاد میں شامل ہوکر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اردن ان دونوں ملکوں میں کارروائیاں کر رہا ہے جب کہ بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات صرف شام میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG