رسائی کے لنکس

مجرم کا کہنا ہے کہ مہذ ب اور شائستہ لڑکیاں رات میں نو بجے گھر سے باہر نہیں گھومتی ہے لڑکیوں کے لیے خانہ داری اور گھرکاکام کاج کرنا اولین ذمہ داری ہے

دسمبر 2012 میں دہلی میں چلتی ہوئی بس میں ایک لڑکی کےساتھ اجتماعی زیادتی کےواقعہ پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے لیے بنائے جانے والی دستاویزی فلم 'انڈیا از ڈاٹر' برطانیہ میں بدھ کی رات نشر کی گئی۔

متنازع دستاویزی فلم کو خواتین کے عالمی دن '8 مارچ' پر برطانیہ اور بھارت کے این ڈی ٹی وی پر دکھایا جانا تھا لیکن بھارت میں اب یہ فلم نشر ہونے سے روک دی گئی ہے۔

برطانوی ایواڈ یافتہ فلمساز لیزلی اڈون کی دستاویزی فلم انڈیا از ڈاٹر مقتولہ کے خاندان، مجرموں اوران کے اہل خانہ سے بات چیت پر مبنی ہے جسے بھارتی اطلاعات و نشریات کی وزارت کے حکم پرٹی وی چینل پر نشر کرنے سے روک دیا گیا ہے اور میڈیا تنظیموں پر بھی فلم کے مناظر کی نمائش کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ دہلی کی عدالت نے پہلے ہی فلم کی نمائش پر پابندی کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

دستاویزی فلم میں مزکورہ جرم میں ملوث مجرم مکیش سنگھ کا 2013 میں جیل میں لیا جانے والا ایک انٹرویو شامل ہے۔ وہ اپنے بیان میں کہتا ہے کہ ریپ کے واقعات میں لڑکے سے زیادہ لڑکی قصور وار ہوتی ہے ۔

ایک گھنٹے طویل فلم میں بس ڈرائیور مکیش سنگھ نے کسی پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس نے مقتولہ کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مجرم کہتا ہے کہ دلی میں جس لڑکی پر جنسی حملہ ہوا تھا وہ اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے لیے خود ذمہ دار تھی، تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی میڈیا نے اس واقعہ کو نربھیا کہا گیا تھا۔ ہندی میں نربھیا نڈر کو کہتے ہیں اوربھارتی میڈیا میں مقتولہ کو نربھیا کا نام دیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں بس ڈرائیور مکیش سنگھ اور اس کے ساتھی حملہ آوروں نے 23سالہ میڈیکل کی طالبہ اور اس کے مرد ساتھی کو رات میں گھر جاتے ہوئے بہانے سے لفٹ دی تھی جس کے بعد حملہ آوروں نے لڑکے کو مارا پیٹا اور لڑکی کو اجتماعی ذیادتی کا نشانہ بنایا اور انتہائی کربناک حالت میں بس سے باہر پھینک دیا تھا۔

متاثرہ لڑکی شدید زخمی حالت میں 13 دن تک موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد سنگاپور کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئی تھی لیکن اس واقعہ سے بھارت اور دنیا بھر میں بھارتی خواتین کی صورتحال کے بارے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

بھارت میں خواتین کے ساتھ جسمانی تشدد کے واقعات میں سے یہ ایک ایسا علامتی واقعہ تھا جس پر ہونے والے ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں جنسی زیادتی کے قانون میں اصلاحات کی گئیں اور ریپ کے مجرم کی سزا دوگنی یعنی 20 برس کر دی ہے جبکہ لڑکیوں کا تعاقب اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کو قانوناً جرم قرار دیا گیا۔

مجرم سنگھ اپنے انٹرویو میں کہتا ہے کہ اگر لڑکی اس روز چپ چاپ جنسی حملے کو برداشت کر لیتی اور مزاحمت نہیں کرتی تو شاید آج زندہ ہوتی۔

اس کا کہنا ہے کہ مہذ ب اور شائستہ لڑکیاں رات میں نو بجے گھر سے باہر نہیں گھومتیں، لڑکیوں کے لیے خانہ داری اور گھر کا کام کاج کرنا اولین ذمہ داری ہے انھیں شرم و حیا والا لباس پہننا چاہیئے اور اگر رات میں باہر جائیں گی تو نتائج کی ذمہ دار بھی خود ہوں گی۔

اس فلم میں مجرم سنگھ فلم سازلیزلی اڈون سے کہتا ہے کہ ہماری پھانسی جنسی زیادتی کا شکار بننے والی لڑکیوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی، "ہم نے ریپ کے بعد لڑکی کو چھوڑ دیا تھا لیکن مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا اب حملہ آور ریپ کا شکار ہونے والی لڑکیوں کو قتل کر دیا کرے گا۔

اس فلم کی برطانیہ میں نمائش نے بھارت میں ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ بدھ کو بھارتی پارلیمان میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے فلم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فلم کو کسی بھی صورت میں بھارت میں نمائش کے لیے نہیں پیش کیا جانا چاہیئے، انھوں نے دستاویزی فلم پر تحقیقات کا بھی وعدہ کیا ہے کہ کیسے صحافیوں کو جیل میں مجرموں تک رسائی کی اجازت دی گئی۔

دوسری جانب فلم ساز لیزلی اڈون کا کہنا ہے کہ وہ جیل انتظامیہ اور وزارت داخلہ کی اجازت سے مجرموں کا انٹرویو کرنے گئی تھیں، انھوں نے اجتماعی زیادتی کے چار مجرموں میں سے ایک سے بات چیت کی تھی۔

تاہم فلم سازوں کا کہنا ہےکہ فلم کی نشریات کو روکنے کی کوشش کو اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور وہ عدالت میں اس پابندی کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بھارتی ایوان بالا کے رکن اور مصنف جاوید اختر نے کہا کہ اچھا ہوا کہ اس واقعہ پر فلم بنائی گئی ہے اس فلم سے مجرم جیسی سوچ رکھنے والوں کی تعداد کے بارے میں صحیح انکشاف ہو سکے گا۔

بی بی سی کے ترجمان نے کہا کہ اس دلخراش واقعہ کی فلم مقتولہ کے والدین کی حمایت اور تعاون سے تیار کی گئی ہے جس سے اس ہولناک جرم کے پیچھے چھپے حقائق سامنے لائے گئے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بیماری اس شخص میں نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کے اندر موجود ہے۔

اس کیس میں مجرم سنگھ کے علاوہ تین اور مجرم سزائے موت پانے کے منتظر ہیں اور ایک مجرم کم سن بچوں کی جیل میں تین سال کی سزا کاٹ رہا ہے جبکہ سزائے موت کے خلاف مجرموں کی اپیل عدالت میں زیر التوا ہے۔

XS
SM
MD
LG