رسائی کے لنکس

صوبائی محکمہ ِتعلیم کے مطابق ضلع کے 30 سے زائد پرائمری، سیکنڈری اور ہائی اسکولوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں اور بم حملوں میں تباہ کیا گیا ہے، ان متاثرہ اسکولوں میں سب سے زیادہ تعداد پرائمری اسکولوں کی ہے۔

صوبہ ِخیبر پختونخواہ کے ضلع صوابی کے اساتذہ اور والدین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوابی میں دہشتگردوں کی جانب سے تباہ کئے گئے اسکولوں کی دوبارہ تعمیر و مرمت کی جائے۔

صوبے کے ضلع صوابی میں گزشتہ کئی سالوں سے عسکریت پسندوں کی جانب سے کئی اسکولوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جسکے بعد وہاں کے طلبہ و طالبات کو تعلیم حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ متاثرہ اسکول کے طلبہ کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ متاثرہ اسکولوں کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے والدین کا کہنا ہے کہ’’صوبے کی عوام کو سہولتیں فراہم کرنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے تاہم ضلع کے بیشتر اسکول بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔‘‘

عسکریت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنائے گئے اسکولوں کی دوبارہ تعمیر کے حوالے سے آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر عبداللطیف کا کہنا ہے کہ، ’’گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ان اسکولوں کی تعمیر و مرمت کا کام ہونا چاہئے تھا جو کہ نہیں ہو سکا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ صوابی شہر صوبہ خیبرہپختونخواہ کا سب سے پُر امن ضلع کہلاتا تھا مگر دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد شہر کے امن کو غیر مستحکم کر دیا گیا ہے۔‘‘

انگریزی اخبار ' ڈان' کے مطابق اسکول اساتذہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشتگردوں کی جانب سے اسکولوں کو بم سے نشانہ بنانے سے عوام کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اگر تعلیمی اداروں کو تباہ کیاجائےگا تو ہم درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG