رسائی کے لنکس

ڈیموکریٹس کی طرف سے ٹرمپ کے خطاب پر ردعمل


سابق گورنر اسٹیو بسہیر (فائل فوٹو)

بسہیر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اصولوں اور جنگ و دہشت سے فرار ہو کر آنے والوں کی مدد کی اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو ترک کیے بغیر بھی امریکہ کا تحفظ کر سکتے ہیں۔

امریکہ کی ریاست کنٹکی کے سابق گورنر اسٹیو بسہیر کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے لوگوں کی مدد کرنے کے اپنے عزم پر قائم نہیں ہیں جو "اپنی گزر اوقات کے لیے کوشاں" ہیں، اور قومی سلامتی سے متعلق صدر کے عزم کی بھی "آزمائش ہو رہی ہے۔"

منگل کی رات کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے صدر ٹرمپ کے خطاب پر روایتی طور پر ڈیموکریٹ کی طرف سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بسہیر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ امریکہ کو لاحق سنگین خطرات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

"صدر ٹرمپ ہماری قومی سلامتی کو روس کی طرف سے لاحق خطرات کو نظر انداز کر رہے ہیں جو کہ ہمارا دوست نہیں ہے، جب کہ وہ ہمارے ان اتحادیوں کا اعتماد کھو رہے ہیں جو ہمارے شانہ بشانہ لڑتے رہے اور ایک خطرناک دنیا میں ہمارے دوست ہیں۔"

بسہیر نے کہا کہ سلامتی سے متعلق ٹرمپ کا نقطہ نظر امریکہ کو کم محفوظ بناتا ہے اور ان کے بقول صدر نے "تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے خلاف اعلان جنگ" کر دیا ہے۔

منصب صدارت سنبھالنے کے بعد صدر نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں پناہ گزینوں اور سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی۔ گو کہ عدالت کی طرف سے اسے معطل کیا جا چکا ہے لیکن ٹرمپ ایک نظرثانی شدہ حکم نامہ جلد ہی جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ملک میں ایسے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں کریں جو جرائم میں ملوث ہیں۔

سابق گورنر بسہیر کا کہنا تھا کہ صدر امیگریشن قوانین کا اطلاق کر سکتے ہیں اور کرنے بھی چاہیئں۔ " لیکن ہم اپنے اصولوں اور جنگ و دہشت سے فرار ہو کر آنے والوں کی مدد کی اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو ترک کیے بغیر بھی امریکہ کا تحفظ کر سکتے ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا کہ یہ تحفظ "خاندانوں کو تقسیم اور بیرون ملک لڑائی میں مصروف ہمارے فوجی مردو خواتین کو متاثر کیے بغیر بھی کرسکتے ہیں۔"

ٹرمپ کے حکم نامے سے ایسے لوگ متاثر نہیں ہوئے جو بچپن میں امریکہ آئے تھے یا جن کی امیگریشن سابق صدر براک اوباما کے نافذ کردہ قانون کے تحت محفوظ ہو چکی ہے، اوباما کے اس قانون کو "ڈریم ایکٹ" کہا جاتا ہے۔

ڈیموکریٹس کی طرف سے ایک اور ردعمل میں تارکین وطن کے حقوق کی سرگرم کارکن اسٹرڈ سلوا کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے اقدام کو معمول بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

"ہم سب پر واجب ہے جو کہ خواتین، ہم جنس پرست برادری، ماحول، کارکنان، تارکین وطن، نوجوانوں اور پناہ گزینوں کو لاحق خطرات کو سمجھتے ہیں کہ ہم مل کر اپنی برادریوں کو ملک بدری، تشدد اور امتیازی سلوک سے بچائیں۔"

ہسپانوی زبان میں دیے گئے اپنے بیان میں سلوا کا مزید کہنا تھا کہ "پناہ گزین اور تارکین وطن اس ملک کی روح اور عزم ہیں اور ہم تنہا نہیں ہیں۔"

ٹرمپ نے منگل کو اپنی تقریر میں کانگرس سے کہا تھا کہ وہ صحت عامہ سے متعلق سابق صدر اوباما کے پروگرام کو منسوخ کرے۔ ٹرمپ اس پروگرام کو ایک مہنگی "تباہی" قرار دیتے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ
صدر ٹرمپ

ڈیموکریٹس اس پروگرام کا یہ کہہ کر دفاع کرتے ہیں کہ اس کے تحت دو کروڑ لوگوں کو صحت کی سہولت حاصل ہوئی جس سے وہ پہلے محروم تھے۔

بسہیر کا کہنا تھا کہ نظام کو ٹرمپ کے بقول "کچھ مرمت" کی ضرورت ہے، لیکن اب تک ریپبلکنز کی طرف سے سامنے آنے والی تجاویز کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس میں کچھ لوگوں کو صحت کی مکمل سہولت مل رہی ہے جب کہ خاندانوں کو زیادہ خرچ کر کے کم سہولت دستیاب ہو رہی ہے۔

انھوں نے ملک کے غریب عوام کی مدد کرنے میں "ناکامی" پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اب تک صدر لوگوں کے لیے رہن کی سہولت کو مزید مشکل بنا چکے ہیں، مالیاتی اداروں کی نگرانی کے ضروری قوانین کو ختم کر چکے ہیں اور اپنی کابینہ کو "ارب پتیوں اور وال اسٹریٹ کے ان لوگوں کو بھر چکے ہیں جو ان یقین دہانیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جن پر اکثر امریکیوں کا انحصار ہے۔"

ٹرمپ خود پر ہونے والی تنقید پکا خود ہی ٹوئٹر پر جواب دیتے آئے ہیں اور اس میں اکثر ان کا نشانہ ذرائع ابلاغ اور بعض وہ حکام ہوتے ہیں جو ان کے فیصلوں سے اتفاق کرتے دکھائی نہیں دیتے۔

بسہیر نے صدر کے ایسے بیانات کو "لاپرواہ" اور جمہوریت کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

"حقیقی راہنما تضحیک اور تقسیم نہیں پھیلاتے۔ حقیقی راہنما مضبوط بناتے ہیں، وہ متحد کرتے ہیں، وہ شریک بناتے ہیں اور وہ الزام اور الٹی میٹمز کی بجائے حقیقی حل پیش کرتے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG