رسائی کے لنکس

واشنگٹن پوسٹ کی نظر میں اس کنونشن میں صدر اوباما اور ڈیموکریٹوں پر لازم ہے کہ اوباما کی دوسری میعاد صدارت کے بارے میں ٹھوس تصوّر پیش کیا جائے۔

واشنگٹن پوسٹ
پچھلے ہفتے ری پبلکن پارٹی کے قومی کنونشن میں مٹ رامنی کو نومبر کے صدارتی انتخابات کے لئےباقاعدہ طور پر امید وار نامزد کیا گیا ، اب اس ہفتے شارلٹ نارتھ کے رو لایئنا میں ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک ایسا ہی کنونشن ہو رہاہے جس میں براک اوباما کو پارٹی کی طرف سے دُوسری مرتبہ صدارتی امید وار نامزد کیا جائے گا۔

واشنگٹن پوسٹ کی نظر میں اس کنونشن میں صدر اوباما اور ڈیموکریٹوں پر لازم ہے کہ اوباما کی دوسری میعاد صدارت کے بارے میں ٹھوس تصوّر پیش کیا جائےاخبار کہتا ہے کہ ری پبلکن کنونشن میں ان کی پہلے میعاد صدارت کی کارکردگی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، حقیقت میں وہ اس سے بہتر تھی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے ہ کئی اعتبار سے یہ مایوس کن رہی ہے اور بہت سے ووٹروں کی طرح اخبار نے اس امید کا اظہار کیا ہےکہ دوسری میعاد میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔اور مسٹر اوباما کو واشنگٹن کی پُھوٹ اور تعطّل کی شکار سیاست سے دل برداشتہ ووٹروں کے لئے اس کی وضاحت کرنی پڑے گی کہ اُن کے اگلے چار سال پچھلے چار سال سے کس طرح مختلف ہونگے۔

ری پبلکن نامزدگی قبو ل کرتے ہوئے مسٹر رامنی نے جو تقریر کی تھی ، اس کے ایجنڈے کو نا امیدی کی حد تک ہلکا قرار دیتے ہوئے اخبار نے مسٹر اوباما سے اس کی وضاحت کرنے کے لئے کہا ہے کہ اگر ان کو مزید چار سال مل گئے ، تو وہ ملک کو کہاں لے جائیں گے۔ اخبار کہتا ہے اب تک مسٹر اوباماہیں ری پبلکنوں کو الزام دیتے آئے ہیں کہ وہ ری پبلکنوں کو الزم دیتے آئے کہ وہ بقول اُن کے جارج ڈبلیو بش کی ناکام پالیسیوں کی طرف واپس لے جانا چاہتے ہیں،لیکن اخبار کا سوال ہے، کہ وُہ صحت کی نگہداشت پر اور مراعات پر اُٹھنے والے اخراجات کوکیسےقابو میں رکھیں گے اور قومی قرضے کوکس طرح قابل برداشت حد تک نیچے لائیں گے۔ اور مالی محاصل بڑھانے کے لئے امیروں پرٹیکس لگانے کے علاوہ اور کس کا سہارا لیں گے اور اس مقصد کے حصول میں کیا وہ کم از کم تھوڑی بہت ری پبلکن امداد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔افغانستان کی جنگ کو وہ کیونکر اس طور ختم کریں گے کہ لامتی کونسل کے مفادات، اور اس ملک میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہو۔ اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے کیسے باز رکھیں گے۔

اخبار نے مسٹر اوباما کے اس عہد کو سراہا ہے۔ کہ وہ سائنس ، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ لگا کر قومی معیشت کی تعمیر نو کر یں گے۔اور متوسط طبقے کو تقویت دیں گے۔ لیکن اخبار کا خیال ہے کہ یہ نعرہ اس وقت تک کھوکھلا ہوگا جب تک طویل وقتی نقطہء نگاہ سے مالی مسائیل پر قابو نہیں پایا جاتا ۔

نیویارک ٹائمز
مسٹر رامنی نے اپنی انتخابی مہم میں یہ جو سوال اُٹھایا ہے کہ آیا امریکیوں کے شب و روز آج سے چار سال پہلے کے مقابلے میں اس وقت بہتر ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کے خیال میں اس نے وہائٹ ہاؤس کی اُس کاوش کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جو صد ر اوباما ڈیمو کریٹک کنونشن میں اپنے نصب العین کو اُجاگر کرنے اور پھر انہیں عام انتخابات کے بعد آگے لے جانے کے لئے کریں گے۔

اخبار کہتا ہے کہ ڈیموکریٹوں کا استدلال یہ ہےکہ مسٹر رامنی اگر انتخاب جیتے تو وہ متوسّط طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ لادیں گے اور دولتمندوں کا ٹیکس کم کریں گے۔ ان کے بقول مسٹر رامنی جو کاروبارکرتے رہے اُس میں ان کا منتہائے مقصد محض منافع کمانا تھا ، چاہے اس میں مزدوروں کو گھاٹا کیوں نہ ہو

اخبار کہتا ہے۔ کہ اس ہفتے مسٹراوبامہ کی کوشش یہ ہوگی کہ اپنے متزلزل حامیوں کو ، جنہیں مسٹر رامنی جارحانہ انداز میں اپنی طرف لانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں ، یقین دلایا جائے ۔کہ چار سال قبل انہوں نے انہیں منتخب کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا ، وہ صائب تھا اور یہ کہ ملک کی معیشت اب بحالی کے ایسے مرحلے سے گُذر رہی ہے ، جسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔اگرچہ آپ ہمیشہ اسے محسوس نہیں کرتے۔ اخبار کے بقول مسٹر اوباما کے معاونین کی اگلی مہم میں یہ نقطہ اٹھانا شامل ہے کہ مسٹر رامنی کے ریکارڈ میں متوسط طبقے کے حق میں کسی بھلائی کا فقدان ہے اور یہ کہ رامنی صدارت کے تحت اگلےچار سال کس طرح کے ہونگے۔

اس کے جواب میں اخبار کہتاہے ،ری پبلکن حکمت عملی یہ ہے کہ لوگوں کی توجّہ پچھلے چار سال پر مرکوز رہے۔جیسا کہ مسٹر رامنی نے ا صدارتی نامزدگی قبول کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا تھا امریکی عوام کے شب و روز مسٹر اوباما کی صدارت میں بہتر نہیں ہوئے۔

واشنگٹن ٹائمز کی رپورٹ ہے ، کہ ترکی اورروس ، جو سرد جنگ کے دور میں ایک دوسرے کے غنیم تھےتوانائی کے شعبے میں سفارتی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں، ترکی نے روس کو اپنے پانیوں میں سے گیس پائپ لائن گزارنے کی اجازت دی ہے ، جب کہ روس ، ترک کا پہلا جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے پر بیس ارب ڈالر سرمایہ لگا رہا ہے،۔یہ معاہدے اس حقیقت کے باوجود ہوئے ہیں کہ ترکی ، روس کی طرف سے شام کے صدر بشارالاسد کی حمائت پر برہم ہے اور روس کو بھی ترکی میں نیٹو کے انتباہی رے ڈار سسٹم کی موجودگی پر غصّہ ہے۔
XS
SM
MD
LG