رسائی کے لنکس

پاکستان میں ڈپریشن کا بڑھتا ہوا مرض

  • شہناز عزیز

Mother and daughter

Mother and daughter

ذہنی امراض کے نامور معالج، ڈاکٹر حارث برکی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈپریشن اور ہیجانی کیفیت یعنی anxietyکے امراض بڑھ رہے ہیں، جب کہ معالجوں کی تعداد بہت کم ہے اوروہ بھی ملک کے بڑے شہروں تک محدودہے۔

ایک برطانوی ادارے کے حالیہ جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر حارث نے بتایا کہ جائزے سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 33فی صد لوگوں میں ڈپریشن کی علامات موجود ہیں، جو کہ ایک بڑی تعداد ہے۔اُنھوں نے یہ بات ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’راؤنڈ ٹیبل‘ میں خصوصی گفتگو میں کہی۔

ڈاکٹر حارث نے بتایاکہ 2005ء میں پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعدوہ متاثرین کو علاج فراہم کرنے کی غرض سے ڈیڑھ ماہ تک مظفر آباد میں رہ چکے ہیں، اور اُن کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ عام اندازوں کے برعکس، پوسٹ ٹرامیٹک عارضے کے شکار لوگوں کی تعداد کم تھی جب کہ زیادہ تر لوگ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا پائے گئے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG