رسائی کے لنکس

ترجمان کے مطابق، آپ دیکھیں گے کہ دنیا کا ہر بیسواں فرد اِس بیماری میں مبتلہ ہے، جس کے نتیجے میں معذوری کی شرح سب سے زیادہ ہےه اور یہ کہ ’ڈپریشن‘ بیماری ہے جو زندگی کے کسی بھی حصے میں کسی کو بھی لگ سکتی ہے

سنہ 2015 میں، 30 کروڑ افراد، یا عالمی آبادی کے چار فی صد سے زائد لوگ، ڈپریشن کے شکار تھے، جس تعداد میں گذشتہ 10 برس کے دوران 18 فی صد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ نئے اعداد و شمار جمعرات کے روز عالمی ادارہٴ صحت نے جاری کیے ہیں۔ اِن سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں ’ڈپریشن‘ کا مرض جڑیں پکڑ رہا ہے، اور اِس وقت عالمی دماغی صحت اور جسمانی معذوری کا اصل سبب بتایا جا رہا ہے۔

ڈین چشولم، عالمی ادارہٴ صحت کے دماغی صحت اور نشہ آور عادات سے متعلق محکمے کے مشیر ہیں؛ جو اِس رپورٹ کے سرکردہ مصنف ہیں۔ اُنھوں نے توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈپریشن‘ بیماری ہےجو زندگی کے کسی بھی حصے میں کسی کو بھی لگ سکتی ہے۔

بقول اُن کے ’’اگر آپ دنیا بھر میں مختلف بیماریاں لگنے کے معاملے پر نظر ڈالیں اور جسمانی معذوری کو مدِ نظر رکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ ’ڈپریشن‘ کا عارضہ عام ہوتا جا رہا ہے اور بیماریوں کی فہرست میں یہ سب سے آگے ہے‘‘۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ ’’آپ دیکھیں گے کہ دنیا کا ہر بیسواں فرد اِس بیماری میں مبتلہ ہے، جس کے نتیجے میں معذوری کی شرح سب سے زیادہ ہے‘‘۔

اِسی رپورٹ کے ساتھ جاری کردہ منسلک اعداد سے پتا چلتا ہے کہ افسردگی کی بیماری، جس میں بہت سی علامات شامل ہیں، جن میں پسِ صدمہ ذہنی و جذباتی دباؤ بھی شامل ہے، اِس سے 26 کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہیں، جو عالمی آبادی کا تین سے زیادہ شمار بنتا ہے۔

چشلوم کے الفاظ میں، ’’متعدد افراد ذہنی دباؤ اور ڈپریشن، ایکساتھ دونوں کے مریض ہوتے ہیں۔ یہ دونوں آپس میں ملی ہوئی بیماریاں ہیں‘‘۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG