رسائی کے لنکس

صوبائی حکام کے مطابق گوٹھ باگل بگٹی میں رہائش پذیر وڈیرہ گزین بگٹی کے گھر پر اتوار کو علی الصبح خودکار ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔

بلوچستان کے مشرقی ضلع ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے میں عسکریت پسندوں نے حکومت کے حامی ایک مقامی وڈیرے کے گھر پر حملہ کر کے خواتین اور بچوں سمیت سات افراد کو ہلاک کردیا۔

صوبائی حکام کے مطابق گوٹھ باگل بگٹی میں رہائش پذیر وڈیرہ گزین بگٹی کے گھر پر اتوار کو علی الصبح خودکار ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔

حملے میں وڈیرے سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے جن میں دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مقامی قبیلے نے حملہ آوروں کا کھوج لگایا اور اس دوران جعفرآباد اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے میں ان کے درمیان جھڑپ ہوئی جس سے بگٹی قبیلے کا ایک نوجوان ہلاک اور دو عسکریت پسند مارے گئے۔

’’ دہشت گردوں کا تعلق بلوچ ریبپلکن آرمی (کالعدم عسکریت پسند تنظیم) سے تھا۔ ۔ ۔ پولیس، لیویز اور فرنٹییئر کور متحرک ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور دہشت گردوں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور بلوچستان کے حالات بھی ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف نہیں ہیں۔ ان کے بقول حکومت دہشت گردی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ضلع ڈیرہ بگٹی میں اس سے پہلے بھی حکومت کے حامی وڈیروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ایک ایسے ہی قبائلی سربراہ کے گھر پر نامعلوم افراد نے حملہ کر کے سردار سمیت سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور حکام ان میں سے اکثر کا الزام صوبے میں سرگرم کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں پر عائد کرتے ہیں۔

صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے ناراض بلوچ قبائلی سرداروں سے مذاکرات کی ذمہ داری مرکزی حکومت نے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو سونپ رکھی ہے جنہوں نے اس ضمن میں کوششیں بھی شروع کر رکھی ہیں لیکن تاحال انھیں اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔
XS
SM
MD
LG