رسائی کے لنکس

سرسبز علاقے صحرا زدگی کی نذر ہوتے جارہے ہیں: تجزیہ کار

  • نفیسہ ہودبھائے

فائل فوٹو

فائل فوٹو

صحرا زدگی سے بچنے کے لیےجنگلوں کی کٹائی روکی جائے، سیم و تھور کا تدارک کیا جائے

جنگلات کاٹےجانے کے خلاف جمعےکو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی’صحرا زدگی‘ کا دِن منایا گیا۔

پاکستان کی ایک ماحولیاتی تنظیم،’ اسکوپ‘ کے سربراہ تنویر عارف نے اِس دِن کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے 17جون 1994ء میں پیرس میں ایک کنوینشن منظور کی تھی جِس کا مقصد دنیا بھر کےخشک علاقوں میں روک تھام کے کام کو آگے بڑھانا تھا، جہاں کی زمینیں بیابان بنتی جارہی ہیں۔

تنویر عارف کا کہنا تھا کہ جب کہ پاکستان میں ہر سال باقاعدگی سے یہ دِن منایا جاتا ہے، لیکن ساتھ ہی، جنگلات اور سبزے میں متواتر کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اُن کے بقول، اِس کا سبب کچھ تو قدرتی ہے، جب کہ کافی حد تک انسان خود ہی اِس کا ذمہ دار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شمالی علاقوں میں جنگلوں کو بیدردی سے کاٹا جا رہا ہے۔ ادھرپنجاب اور سندھ کے صوبوںٕ کےمیدانی علاقوں میں فلڈ اریگیشن کے ذریعے زراعت کی جاتی ہےاور نتیجتا ً سیم و تھور کی وجہ سے زمین کی زرخیزی کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے، جب کہ ملک کے بارانی علاقوں میں جنگلات کو کاٹا جارہا ہے۔

درسری طرف، ورلڈ وائلڈ لائف فند کےعہدے دار، ناصر پنہورکا کہنا تھا کہ پاکستان میں خشک سالی کی وجہ سے کئی مقامی پھل، پودے اور جانور ختم ہوتے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے ببول اور نیم کے درختوں کا نام لیا، اور بتایا کہ یہ مقامی اور ماحول دوست درخت ختم ہوتے جارہے ہیں، جب کہ شہروں کے نزدیک کے زرعی علاقے ہاؤسنگ اسکیموں کی نذر ہوتے جارہے ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG