رسائی کے لنکس

دیوالیہ قرار دیا جائے، امریکی شہر ڈیٹرائٹ کی درخواست


ایمرجنسی افسر کیوون اور

ایمرجنسی افسر کیوون اور

ڈیٹرائیٹ میں حالیہ برسوں میں کم ہوتی آبادی اور ٹیکسوں کی وصولی میں کمی سے اقتصادی بد انتظامی کے شکار اس شہر کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ نے دیوالیہ قرار دیئے جانے کی درخواست جمعرات کو عدالت میں جمع کرائی ہے۔ ایسی درخواست کرنے والا یہ امریکہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔

ڈیٹرائیٹ میں حالیہ برسوں میں کم ہوتی آبادی اور ٹیکسوں کی وصولی میں کمی سے اقتصادی بد انتظامی کے شکار اس شہر کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

شہری کے ایمرجنسی افسر کیوون اور کے مطابق بجٹ خسارا 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ اور طویل مدتی قرضوں کی ادائیگیاں تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

لیکن مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ایرک اسورسون کہتے ہیں کہ یہ دیوالیہ پن ایک ہی رات میں وقوع پذیر نہیں ہو گیا۔

’’ یہ شہر شکاگو اور نیویارک کی طرح نہیں تھا جہاں اقتصادی جہتیں موجود تھیں، یہاں صرف ایک ہی انڈسٹری تھی۔ گاڑیوں کی انڈسٹری، یہ گاڑیوں کی صنعت میں حصہ دار رہا ہے۔ لیکن جب وہ ختم ہوئی تو یہ تنزلی کی طرف بڑھنے لگا اور تقریباً پچاس سالوں میں اس نہج تک پہنچا۔‘‘

1950ء کی دہائی میں ڈیٹرائٹ کے عروج کے زمانے میں یہاں کی آبادی 18 لاکھ تھی جو 2010ء میں 70 ہزار رہ گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ بے روزگاری میں اضافے اور ملازمت کے مواقع کم ہونے کے باعث یہاں سے نقل مکانی کرتے رہے۔

ڈیٹرائٹ شہر کی انتظامیہ نے معمولات چلانے کے لیے گزشتہ ماہ سے قرضوں کی ادائیگی روک دی تھی۔
XS
SM
MD
LG