رسائی کے لنکس

دیوآنند کا آخری سفر تیار ، جسد خاکی کل فنا ہوجائے گا


دیوآنند کا آخری سفر تیار ، جسد خاکی کل فنا ہوجائے گا

دیوآنند کا آخری سفر تیار ، جسد خاکی کل فنا ہوجائے گا

بالی ووڈ فلموں کے’سدابہار ہیرو‘، دیوآنند کا وجود ہفتے کی صبح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے فنا ہوجائے گا۔ ان کی آخری رسومات لندن میں ہی اداکردی جائیں گی جہاں گزشتہ اتوار ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ بعد ازاں، ان کی خاک ممبئی لائی جائے گی جہاں ان کی یاد میں ایک پروگرام منعقد ہوگا۔ یہ وہی ممبئی شہر ہے جہاں سے انہوں نے ساٹھ سالوں تک فلمی دنیا پر راج کیا۔

ان کی آخری رسومات کی لندن میں ادائیگی کا فیصلہ جمعرات کی صبح ان کی اہلیہ کلپنا کارتک اور بیٹی دیوینہ کی برطانیہ آمد کے بعد کیا گیا۔ دیوآنند کے اہل خانہ کے مطابق رسومات 10 دسمبر کی صبح گیارہ بجکر چالیس منٹ پر مقامی شمشان گھاٹ پر اداکی جائیں گی۔ ممبئی روانگی سے قبل اسی دن دوپہر دو بجے’ بھارتیہ ودیابھون ‘ میں ان کی یاد میں ایک پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔ یہ یادگاری پروگرام ممبئی میں ہونے والے پروگرام کے علاوہ ہے۔

دیوآنند ہارٹ اٹیک کے باعث 3دسمبر کو88 سال کی عمر میں لندن میں واقع ’واشنگٹن ہوٹل ‘میں قیام کے دوران اس دنیا سے کوچ کرگئے تھے۔ ان کی موت کے وقت ان کے صاحبزادے سنیل ان کے قریب تھے۔

دیوآنند کی موت کے ساتھ ہی بالی ووڈ فلموں کا ایک دور ختم ہورہا ہے۔ ان کی آخری فلم ”چارچ شٹ “ دوماہ پہلے ہی ریلیز ہوئی تھی ۔ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تحصیل نارووال کے علاقے شکرگڑھ میں پیدا ہوئے تھے لیکن چالیس کی دھائی میں فلموں میں کام کی غرض سے انہیں ممبئی آنا پڑا۔ ان کی پہلی فلم ”ہم ایک ہیں“ تھی ۔

انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری کے فرائض بھی انجام دیئے۔ ” سی آئی ڈی“، ’‘’گائیڈ“ ، ”ہرے راما ہرے کرشنا“ اور” جیول تھف“ ان کی یاد گار اور کامیاب ترین فلمیں شمار ہوتی ہیں۔

دیوآنند نے اداکاری میں کبھی کسی کو کاپی نہیں کیا بلکہ ان کا اپنا ایک منفرد اسٹائل تھا اس اسٹائل کو نہ تو کوئی کاپی کرسکا اور نہ ہی کسی اور پر یہ اسٹائل جچا۔ لہذا، وہ اپنے فن میں یکتا تھے۔

دیوآنند زندگی بھر یہ کہتے رہے کہ وہ مرتے دم تک کام کرتے رہنا چاہتے ہیں اور ہوا بھی ایسا ہی۔ 30 ستمبر کو ان کی آخری فلم ” چارچ شیٹ“ ریلیز ہوئی تھی جس کے بعد وہ ایک اور فلم پر کام کررہے تھے لیکن اس سے پہلے کہ ان کا کام مکمل ہوتا موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔

نئی نسل کی بہت سی اداکارائیں اور اداکار زندگی بھر ان کے احسان مند رہیں گے، کیوں کہ انہیں دیو آنند نے ہی پہلی مرتبہ فلموں میں بریک دیا تھا۔ ان فنکاروں میں ٹینا منیم اور زینت امان بھی شامل ہیں۔

جس دور میں انہوں نے اداکاری شروع کی اس دور میں دلیپ کمار اور راج کپور جیسے منجھے ہوئے فنکار پہلے سے انڈسٹری میں موجودتھے ، ایسے میں دیوآنند کا کامیاب ہونا اور اپنا منفرد مقام بنانا واقعی جوئے شیرلانے کے مترادف تھا لیکن دیوآنند اس میں خوب کامیاب رہے۔

دیوآنند نے انگریزی لڑیچر میں گریجویشن کیا تھا ۔ وہ جب ممبئی آئےتویہاں پہلے سے ان کے بڑے بھائی چیتن آنند موجود تھے ۔ دیوآنند کو فلم انڈسٹری میں پہلا کام پربھات اسٹوڈیو نامی فلم پروڈکشن کمپنی میں ملا ۔ یہ فلم تھی ”ہم ایک ہیں“ اس فلم کے لئے انہیں ساڑھے تین سو روپے معاوضہ ملا تھا اور زمانے میں یہ رقم خاصی بڑی تصور کی جاتی تھی۔

انہی دنوں دیو آنند کو ان کے بھائی چیتن آنند نے اپنی پہلی فلم ” نیچا نگر “ میں کاسٹ کیا ۔ اس فلم کو کینز فلم فیسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات اس وقت کی مشہور پلے بیک سنگر اور اداکارہ ثریا سے ہوئی۔ دونوں کی ملاقات پیار میں بدلی اور نوبت شادی تک بھی پہنچی لیکن ثریا کی نانی نہیں مانی۔ 1954میں دیوآنند نے اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کرلی لیکن ثریا زندگی بھر کنواری ہی رہیں۔

بعد کے سالوں میں دیو آنند کی معرکتہ الآرافلم ”ضدی“ آئی جس نے دیوآنند کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ دیوآنند اس وقت کے نمبر ون ہیرو شمار ہونے لگے۔ ”گائیڈ “دیو صاحب کی پہلی رنگین فلم تھی جو 1960ء میں ریلیز ہوئی ۔ اس میں ان کی ہیروئن وحیدہ رحمن تھیں ۔ ان کی پے ددپے کامیاب ہونے والی ان فلموں نے انہیں دلیپ کمار اور راج کپور کے ہم پلہ لاکھڑاکیا۔

دیوآنند کو ان کے کام کے عوض بے شمار ایوارڈز سے نوازا جاتا رہا۔ ان میں 2001ء میں دیا جانے والا بھارت کا سب قابل فخر ایوارڈ پدما بھوشن اور 2002ء میں ملنے والا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG