رسائی کے لنکس

دختر کشی کا بھیانک انجام: راجستھان کے ایک گاؤں میں 120 سالوں میں صرف دو لڑکیاں بیاہی گئیں

  • کولکتہ

بھارت کے ایک گاؤں میں کسی لڑکی کے ہاتھوں میں مہندی نہیں سجتی اور نہ ہی اس کی ڈولی اٹھتی ہے۔ در اصل اس پورے گاؤں کو ایک صدیوں پرانی روایت کی پیروی کرتے ہوئے ہمیشہ لڑکیوں کے وجود سے ”پاک” رکھا گیا ہے۔ بیٹی کو یہاں یا تو ماں کی کوکھ میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے اور جو سخت جان پیدا ہونے کی جرات کرتی ہے اسے پیدا ہونے ہی موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔

یہ راجستھان صوبے کے ایک گاؤں دیودا کی داستان ہے جس کے بارے میں ملک کے کثیر الاشاعت اخبار ٹائمز آف انڈیا میں یہ ناقابل یقین لیکن حقیقی خبر شائع ہوئی ہے کہ ایک صدی تک اس گاؤں میں کوئی لڑکی بیاہی نہیں گئی تھی۔ دیودا خبروں کی سرخیوں میں اس طرح آیا کہ اس گاؤں میں منگل کے دن ایک عجوبہ رونما ہوا۔

منگل کے دن پنا سنگھ نام کے ایک شخص کی بیٹی شگون کنور کی شادی شیلندر سنگھ کے ساتھ ہوئی جو بیکانیر میں ایک ٹریول ایجنسی میں ملازمت کرتا ہے۔ ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ راجپوتوں کے اس گاؤں میں 120 برسوں میں ہونے والی یہ دوسری شادی ہے۔ اس کے قبل صرف 1998ء میں یہاں شہنائیاں بجی تھیں جب شگون کی چچا زاد بہن جینت کنور کا بیاہ رچایا گیا تھا۔

دراصل راجستھان کے راجپوتوں کے اس گاؤں میں یا تو لڑکیوں کو حمل مادر میں ہی ہلاک کر دیا جاتا ہے یا انہیں پیدا ہوتے ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ شگون کے والد پنا سنگھ نے فخریہ لہجے میں اخبار کے نمائندے کو بتایا کہ ان کا خاندان پورے دیودا گاؤں کا واحد خاندان ہے جہاں ایک نہیں دو دو لڑکیوں کی شادیاں ہوئی ہیں۔

آج سے لگ بھگ 29 سال قبل اندر سنگھ بھاٹی نام کے ایک شخص نے صدیوں قدیم اور قبیح روایت سے بغاوت کی اور اپنی نوزائیدہ بچی کا گلا گھونٹنے سے انکار کر دیا۔ اس کو برادری نے معتوب کر دیا تاہم اس طرح جینت زندہ رہ گئی اور بھاٹی کے آنگن میں پروان چڑھنے لگی۔ وہ اس وقت پورے گاؤں میں واحد لڑکی تھی۔ جب جینت بڑی ہو گئی تو والدین نے 1998ء میں اس کے ہاتھ پیلے کر دیے۔

جینت کی پیدائش کے چند برسوں بعد اندر سنگھ کے بھائی پنا سنگھ کے آنگن میں بھی ایک کلی کھلی۔ اپنے بڑے بھائی کے جرات مندانہ اقدام کی تقلید کرتے ہوئے پنا نے بھی اس کلی کو مسلنے سے انکار کر دیا۔ شگون نام کی وہ کلی آج وہ دلہن بنی ہے۔

XS
SM
MD
LG