رسائی کے لنکس

دھرم شالہ میں جلاوطن تبتی باشندوں کی عالمی کانفرنس

  • واشنگٹن

دھرم شالہ

دھرم شالہ

یہ کانفرنس اس مذہبی اور سیاسی دباؤ پر مرکوز رہے گی جس کا تبت میں بودھ مذ ہب کے پیروکاروں کو سامنا کرنا پڑرہاہے اور اس کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں خودسوزی کے درجنوں واقعات پر بھی غور کیا جائے گا۔

دنیا بھر میں موجود جلاوطن تبتی باشندوں کاایک بڑا احتماع احتجاجاً اپنی جانیں قربان کرنے کی موجودہ لہر اور اپنے موقف پر حمایت حاصل کرنے کے طریقوں پر بات چیت کے لیے شمالی بھارت میں اکھٹا ہوا ہے۔

دنیا بھر سے بھارتی قصبے دھرم شالہ میں منگل کو تبتی باشندوں کے خصوصی اجلاس کے لیے تقریباً 400 مندوب آئے ہیں۔

چار روز تک جاری رہنے والے اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے شرکاء نے دلائی لامہ کی تصویریں اٹھائی ہوئی تھیں۔

دلائی لامہ جسے تبتی بودھ اپنا روحانی پیشوا سمجھتے ہیں، اس کاکانفرنس میں شریک نہیں کررہے کیونکہ وہ سیاسی زندگی سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ یہ کانفرنس اس مذہبی اور سیاسی دباؤ پر مرکوز رہے گی جس کا تبت میں بودھ مذ ہب کے پیروکاروں کو سامنا کرنا پڑرہاہے اور اس کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں خودسوزی کے درجنوں واقعات پر بھی غور کیا جائے گا۔

بیجنگ کا کہناہے کہ خودسوزی کے واقعات کا مقصد علیحدگی پسندانہ جذبات کو ہوا دینا ہے اور انہیں یہ ہدایات بیرونی ممالک سے دی جاتی ہیں۔

لیکن دلائی لامہ کے نمائندوں کاموقف ہے کہ خودسوزی کے واقعات کا زیادہ تر محرک یہ ہے کہ مظاہرین اب تبت میں بیجنگ کی پالیسیاں مزید برداشت نہیں کرسکتے۔
XS
SM
MD
LG