رسائی کے لنکس

امریکہ: مقامی دہشت گردی کا خطرہ، انتباہ کا نیا نظام نافذ ہوگا


جے جانسن

جے جانسن

یہ اعلان کیلی فورنیا کے شہر برنارڈینو میں میاں بیوی، سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک کی فائرنگ کے بعد سامنے آیا ہے، جسے وائٹ ہاؤس نے ’دہشت گردی کا اقدام‘ قرار دیا ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ، جے جانسن نے پیر کے روز اعلان کیا کہ امریکہ میں مقامی دہشت گردی کے خطرے کے انتباہ کا ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

اُنھوں نے اس بات کا اعلان گذشتہ ہفتےکیلی فورنیا کے شہر، سان برنارڈینو میں ہونے والے حملے کے تناظر میں کیا، جس میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔

واشنگٹن کے ’ڈفنس ون فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے، جانسن نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اس ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دہشت گردی کے موجودہ نظام کی جگہ ایک نیا مؤثر نظام متعارف کرائیں، جس کا درجہ بلند سطح کی نوعیت کا ہو‘۔

یہ اعلان کیلی فورنیا کے شہر برنارڈینو میں میاں بیوی، سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک کی فائرنگ کے بعد سامنے آیا ہے، جس واقع کو وائٹ ہاؤس نے ’دہشت گردی کا اقدام‘ قرار دیا ہے۔

اس جوڑے کو بروقت مشتبہ دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا۔ امریکی سرکاری حکام نے ایسے، بقول اُن کے، ’چُھپے رستموں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، جو داعش جیسی تنظیموں کی حمایت کے ساتھ ایسے حملے کرتے ہیں۔ تاہم، اُنھیں براہِ راست احکامات موصول نہیں ہوتے‘۔

جانسن نے کہا کہ حالانکہ اس سازش کی کوئی واضح قابل بھروسہ خفیہ رپورٹ نہیں تھی، تب بھی خدشہ ٹلتا نہیں ہے۔ اُنھوں نے اس امکان کو نمایاں کیا کہ ایسا شخص بھی دہشت گردی میں ملوث ہوسکتا ہے جو قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر نہ ہو۔

سنہ 2001میں، نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی پر دہشت گرد حملوں کے بعد ’کَلر کوڈیڈ سسٹم‘ وضع کیا گیا تھا۔ تقریباً 10 برس بعد، اسے دو مرحلوں والے انتباہ کے نظام میں تبدیل کیا گیا۔

جانسن کے بقول، ’نیشنل ٹررزم ایڈوائزی سسٹم (این ٹی اے ایس)‘ اب کافی نہیں رہا، کیوں کہ اُسے کبھی استعمال نہیں کیا گیا، کیونکہ اس کا تعلق ملک کو لاحق کسی مخصوص خطرے یا خطرات سے ہوتا ہے۔

جانسن نے کہا کہ ’ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس کے تحت عام لوگوں کو بروقت انتباہ میسر ہو، نہ کہ تب جب قانون کا نفاذ کرنے والوں کی جانب سے تیار کردہ انٹیلی جنس بلیٹن کا راز فاش ہو، یا پھر گمنام سرکاری حکام کے حوالے سے کوئی بات منظر پر آئے‘۔

تاہم، ’انٹرنیشنل سکیورٹی اینڈ ڈفنس پالیسی سینٹر فور رینڈ کارپوریشن‘ سے تعلق رکھنے والے، سیٹھ جونز کہتے ہیں کہ اس طرح کی تبدیلی سے عام آدمی کے تحفظ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جانسن نے بتایا کہ پیرس کے حملوں کے بعد سے امریکہ میں انتہائی خطرے کی سطح کا انتباہ جاری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ پر حملے کی کسی سازش کے بارے میں کوئی قابل ذکر خطرے کا انتباہ نظروں میں نہیں ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ کے وزیر نے بتایا کہ صدر براک اوباما کے براہ راست احکامات کے تناظر میں اُن کا محکمہ اور محکمہ خارجہ ’کے ون ویزا پرگرام‘ یا ’فیانسی ویزا‘ کے طریقہٴ کار پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

امریکہ میں پیدا ہونے والے سید رضوان فاروق کی بیوی، تاشفین ملک اِسی ویزا کے تحت امریکہ میں وارد ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG