رسائی کے لنکس

بروقت تشخیص سے ذیابیطس پر قابو پانا ممکن ہے، ماہرین


فائل

فائل

زبان کا خشک رہنا، زیادہ پیاس محسوس ہونا، پیشاب کی زیادتی کے علاوہ نقاہت یا کمزوری محسوس ہونا ذیابیطس کی بنیادی اور عام علامات ہیں۔

دنیا بھر میں 37 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس یعنی شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں اور ہرسال اس مرض سے پیدا ہونے والی دیگر طبی پیچیدگیوں کے باعث 45 لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس مرض کی روک تھام اور علاج پر خصوصی توجہ نہ دی گئی تو یہ تعداد آئندہ آنے والے سالوں میں کہیں زیادہ ہوجائے گی۔

جمعرات کو ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد کے ایک معروف طبی ماہر ڈاکٹر اظہر جاوید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ذیابیطس کو بیماریوں کی ’’جڑ‘‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انسانی جسم میں دوران خون کو متاثر کرکے بہت سے مہلک بیماریوں کا باعث بنتی ہے لہذا اس کی تشخیص اور علاج میں ہر گز دیر نہیں کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر اظہر کا کہنا تھا کہ زبان کا خشک رہنا، زیادہ پیاس محسوس ہونا، پیشاب کی زیادتی کے علاوہ نقاہت یا کمزوری محسوس ہونا ذیابیطس کی بنیادی اور عام علامات ہیں۔

’’یہ موروثی بھی ہوتی ہے اور ایسے لوگ جن کے خاندان میں کسی فرد کو یہ بیماری ہو انھیں ضرور اس کی تشخیص کروانی چاہیے اور زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔‘‘

طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس لاحق ہونے کی صورت میں اگر احتیاط اور علاج نہ کیا جائے تو یہ مرض گردوں کو ناکارہ کرنے کے علاوہ، دل کی بیماریوں اور بلند فشار خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کا اہم ذریعہ بنتا ہے جب کہ بعض واقعات میں متاثرہ شخص کی بینائی بھی ضائع ہوسکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اظہر جاوید کا کہنا تھا کہ صحت مندانہ طرز زندگی اپناتے ہوئے اپنی خوراک اور وزن کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

پاکستان میں ذیابیطس کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ایک بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ڈائیباٹیز فیڈریشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 70 لاکھ لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔

ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کا مرض جس رفتار سے بڑھ رہا ہے اگر اس کی روک تھام کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو 2025ء تک اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد ایک کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ جائے گی اور پاکستان کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس والے مریضوں کے اعتبار سے پہلے چار ممالک میں ہونے لگے گا۔
XS
SM
MD
LG