رسائی کے لنکس

امدادی کارکنوں کے لیے بھی اس بات کو تسلیم کرنا مشکل ہے کہ انھیں تباہ شدہ کار سے مدد مانگنے کے لیے جو آواز سنائی دی تھی وہ ایک مردہ ماں کی تھی جو انھیں اپنی بچی کی زندگی بچانے کے لیے پکار رہی تھی۔

امریکی ریاست یوٹاہ میں ایک کارحادثے کی تفتیش کا معاملہ پولیس اہلکاروں کے لیے پراسرار واقعہ میں بدل گیا ہے۔ حادثے کی وجوہات اب تک نامعلوم ہیں لیکن حادثے کے حقائق جو کچھ بتا رہے ہیں اسے انسانی عقل تسلیم نہیں کر سکتی ہے حتیٰ کہ ان امدادی کارکنوں کے لیے بھی اس بات کو تسلیم کرنا مشکل ہے کہ انھیں تباہ شدہ کار سے مدد مانگنے کے لیے جو آواز سنائی دی تھی وہ ایک مردہ ماں کی تھی جو انھیں اپنی بچی کی زندگی بچانے کے لیےپکار رہی تھی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق 25 سالہ لن جینیفر گروس بیک کی کار جمعہ کی شب اسپانوی فورک دریا میں جاگری تھی جبکہ دریا میں الٹ جانے والی کار میں جینیفر اور اس کی 18 ماہ کی بیٹی للی موجود تھی۔

جائے وقوعہ پر پہنچنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے کار دریا سے باہر نکالی تو دیکھا کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی لڑکی واضح طور پر مردہ تھی لیکن کار کی پچھلی سیٹ پر موجود ننھی بچی کی پلکیں کانپ رہی تھیں وہ تباہ شدہ کار میں بچوں کی حفاظتی سیٹ پر پچھلے 14 گھنٹوں سے اسی طرح بندھی ہوئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ممکن تھا کہ جینیفر کی طرح للی بھی اپنی ماں کے ساتھ ہی مرجاتی اگر مقامی ماہی گیر نے اگلے روز دریا میں اس الٹی ہوئی کار کو نہیں دیکھا ہوتا جس کے پہیے پانی کی سطح سے باہر نظر آرہے تھے۔

اسپینش فورک پولیس کے بیان میں حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ کار کو سڑک پر سے نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ حادثہ جمعہ کی شب رات 10بج کر 30 منٹ پر ہوا جس میں کار پل کے سیمنٹ کے پشتے سے ٹکرا کر دریا میں جاگری جبکہ ماہی گیر نے سہ پہر 12 بج کر 30 منٹ پر یعنی چودہ گھنٹے بعد کار کو دیکھا تھا۔ اورماہی گیر کی اطلاع پر پولیس اور امدادی کارکن جائے وقوعہ پر پہنچے تھے ۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جمعہ کی شب بھاری دھمک کی آواز سنی تھی لیکن جب دیکھا گیا تو وہاں کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا۔

لیکن یہ سوال پولیس کے لیے بھی پیچیدہ ہے کہ کیسے ایک شیر خوار بچی منجمد درجہ حرارت اور برفیلے یخ پانی میں چودہ گھنٹے تک بغیر کچھ کھائے پیئے زندہ رہی اور اس آزمائش میں وہ کیسے بچ گئی؟

امریکی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ للی کا زندہ بچنا شاید اس لیے ممکن ہوا کیوں کہ کار سیٹ کار کے ساتھ مضبوطی سے جڑی ہوئی تھی حتیٰ کی للی اس میں پھنسی ہوئی تھی اور الٹی پڑی تھی پھر بھی وہ ٹھنڈے پانی سے کچھ اوپر تھی۔

اسپینش فورک دریا 10 فٹ گہرا ہے لیکن جس جگہ کار ملی ہے وہ زیادہ گہری نہیں تھی اور کار جزوی طور پر پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرد موسم میں زیادہ دیر پانی میں ٹھہرنا خطرناک ہے لیکن گیلے انسان کے لیے یہ اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ کچھ سائنسی وجوہات کے ساتھ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچی کے پاس وائٹ فیٹ یا بی بی چربی کا ذخیرہ ہوتا ہےجس کی وجہ سے وہ نصف دن گزرنے کے بعد بھی منفی درجہ حرارت میں زندہ رہی لیکن ڈاکٹروں کو خود بھی یہ وجہ ناکافی لگتی ہے۔

اس حادثے کے بارے میں پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دریا سے کار نکالنے سے پہلے ایک پراسرار آواز سنی تھی یہ خاتون کی آواز تھی جو مدد کے لیے پکار رہی تھی اور یہ آواز کار کے اندر سے آرہی تھی۔

دریا میں ریسکیو مشن کا حصہ بننے والے چار پولیس اہلکار کہتے ہیں کہ انھوں نے آواز سنی تھی اور ہم چار پولیس فسروں کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ یہ آواز کار میں سے آرہی ہے اور یہ بچے کی آواز معلوم نہیں ہو رہی تھی بلکہ اس آواز نے ہمارے جوش کو بڑھایا اور ہم نے ٹھنڈے دریا میں اتر کر تیز رفتاری سے کار کو پانی میں سے باہر نکالا لیکن کار میں موجود لڑکی واضح طور پر مردہ لگ رہی تھی لیکن اس کی بچی بے ہوش تھی پر زندہ تھی۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ ان چیزوں میں سے ایک ہے جس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔

امدادی کارکنوں نے کہا کہ ہم سب کو لگ رہا تھا کہ کار میں کوئی زندہ ہے اور ہماری مدد کا منتظر ہے اور ہم سے مدد مانگ رہا ہے پولیس آفیسر ٹائلر بیڈوس نے کہا کہ میں دو راتوں سے جاگ کر رات بھر اس پراسرا آواز کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہوں جو ہم سب نے اپنے ہوش و حواس میں سنی تھی جبکہ کار میں جینیفر اور اس کی بیٹی کے علاوہ تیسرا کوئی موجود نہیں تھا۔

اس ریسکیو مشن کے دوران امدادی کارکنوں کو منجمد برفیلے پانی میں اترنے کی وجہ سے درجہ حرارت کی وجہ سے ہائپو ترمیا ہوگیا تھا جنھیں بعد میں علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا۔

پولیس اہلکاروں کے پاس پل کا سیمنٹ کا پشتہ ٹوٹنے اور اتنا ڈھیر سارا ملبے ملنے کی بھی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مس جینیفر نے الکوحل یا ڈرگ کا استعمال نہیں کیا تھا جبکہ سٹرک پر گاڑی کے ٹائروں کے گھسیٹے جانے کے نشانات بھی نہیں ملے ہیں ناہی گاڑی میں کوئی خرابی تھی اس کے باوجود مس جینیفر کی کار اس راستے میں حادثے کا شکار بنتی ہے جو ان کے لیے معمول کا راستہ تھا۔

اسپرنگ ویل کی رہائشی مس جینیفر اس روز اپنی والدہ سے ملنے کے بعد گھر جارہی تھیں جب ان کی گاڑی پل سے دریا میں جاگری البتہ تفتیش کار اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بھی ہے کہ ڈرائیور جینیفر کسی وجہ سے پریشان کی گئی ہوں لیکن فی الحال اس حادثے کی وجوہات نامعلوم بتائی گئی ہیں۔

اگرچہ ایک طرف جینیفر کی موت ایک افسوسناک واقعہ تھی تو دوسری جانب للی کی زندگی ایک حوصلہ افزا امید بن گئی ہے ۔ ویب سائٹ 'گو فاونڈ می' پر جینیفر کی بہن اور اس کی سہیلیوں نے للی اور جینی کے لیے چندہ مہم شروع کی ہے جس میں صرف تین دنوں میں اب تک 60 ہزار ڈالر سے زائدرقم جمع ہوئی ہے جبکہ اس صفحے پر جینیفر کے خاندان کی جانب سے للی جو موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا تھی اس کی صحت یابی کی خبر بھی دی گئی ہے۔

لیکن اس حادثے کے پراسرار حقائق کی طرح للی کی چند دنوں میں حیرت انگیز صحت یابی بھی کسی معجزے سے کم معلوم نہیں ہوتی ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق گذشتہ چند روز سے واشنگٹن سے لے کر آسٹریلیا تک للی اور جینی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں ہیں جبکہ اس پراسرار حادثے پر تیرہ سو سے زائد مضامین شائع ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG