رسائی کے لنکس

تعلیم کا جنون، مستقبل کے پاکستانی ’اسٹیفن ہاکنگ‘ سے ملئے


”میں اسٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم امریکی سائنسدان سمیت بہت سے لوگوں کے بارے میں عبد الباقی کو بتاتا رہتا ہوں۔ ان جیسی شخصیات سے متعلق کتابیں عبدالباقی شوق سے پڑھتا ہے۔ اسے ہاکنگ کی شخصیت حوصلہ، ہمت اور پرعزم ہونے کا سبق دیتی ہے۔ اسی لئے وہ کہتا ہے۔۔۔

کراچی ... عبدالباقی 15 سال کا ہے مگر اٹھنے بیٹھنے سے قاصر ہے۔ نویں کلاس میں پڑھتا ہے۔ اس نے بستر پر لیٹے لیٹے ہی بورڈ کا امتحان دیا ہے۔ پیر کو اس کا آخری پیپر تھا۔ جسمانی قد ڈھائی فٹ کے قریب ہوگا مگر اس کے خیالات، اس کی خداداد صلاحیتوں اور حوصلوں کا قد اس قدر بلند ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

وہ اپنی معذوری کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں سمجھتا اور کہتا ہے کہ ایک دن سافٹ وئیر انجینئر بن کر ملک، والدین اور اساتذہ کا نام روشن کروں گا اور باقی لوگوں کے لئے آئیڈیل بنوں گا۔

اس کے باوجود کہ عبدالباقی ہڈیوں کے پیدائشی مرض کے سبب اٹھ، بیٹھ اور چل پھر نہیں سکتا، اس نے اپنے لئے نویں کے امتحان میں سائنس کو منتخب کیا جو اس کے ہم عمر اکثر بچوں کو بہت مشکل لگتا ہے۔

اس کے سراہنے ہی کمپیوٹر رکھا رہتا ہے۔ وہ میل کرنا، میل پڑھنا اس کا جواب دینا جانتا ہے۔ موبائل ایپ کیا ہوتی ہے، واٹس اپ کا استعمال کیا ہے۔ اسمارٹ فون کے کیا کیا فنکشنز ہوتے ہیں۔ وہ ان چیزوں سے بخوبی واقف ہے۔

عبدالباقی کے والد، عبدالماجد صدیقی نے، جو کراچی کے علاقے ’بڑا بورڈ‘ پر ماربل کا کام کرتے ہیں، ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا: ”عبدالباقی کو کمپیوٹر گیمز پسند ہیں۔ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ گیمز بھی مزے سے کھیلتا ہے۔“

ایک سوال پر، عبدالباقی نے بتایا کہ اسے بخوبی اس بات کا علم ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ کون ہے اور سائنس و تحقیق میں ان کی کیا خدمات ہیں۔

عبدالماجد کے بقول ”میں اسٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم امریکی سائنسدان سمیت بہت سے لوگوں کے بارے میں عبدالباقی کو بتاتا رہتا ہوں۔ ان جیسی شخصیات سے متعلق کتابیں عبدالباقی شوق سے پڑھتا ہے۔ اسے ہاکنگ کی شخصیت حوصلہ، ہمت اور پرعزم ہونے کا سبق دیتی ہے۔ اسی لئے وہ کہتا ہے میری مجبوری میری راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی اور نہ ہی میں بننے دوں گا۔ “

عبدالباقی کی دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں ان میں سے ایک کا نام تحریم ہے ، وہ بالکل نارمل ہے اور عبدالباقی لیٹے لیٹے ہی اس کے ساتھ کھیلتا اور باتیں کرتا رہتا ہے۔

عبدالباقی کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں بھی ہم عمر بچوں سے زیادہ جانتا ہے ۔ اس حالت میں بھی وہ نماز سے غافل نہیں اور جس وقت وی او اے کا نمائندہ عبدالباقی سے گفتگو کرنے ان کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا وہ نماز پڑھ رہا ہے۔ نمائندے کی موجودگی میں ہی نماز کا وقت ہوا تو عبدالباقی نے سب کچھ چھوڑ کر لیٹے لیٹے ہی نماز ادا کی۔

عبدالباقی آگرہ تاج کالونی لیاری میں واقع ’سن رائز سیکنڈری اسکول‘ کا طالب علم ہے، جہاں کے پرنسپل خواجہ حمیر شہزاد ہیں جن کا کہنا ہے: ”عبدالباقی کا ذہن بہت تیز ہے حتیٰ کہ آئی کیو لیول بھی بہت بلند ہے۔ غیر معمولی طور پر دوسرے بچوں سے کہیں زیادہ۔ ان سب کے باوجود، وہ بلا کا خود اعتماد ہے۔ اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ہم نے پیپرز میں اس کے لئے رائٹر ارینج کرایا کیوں کہ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں لکھنے میں پریشانی کے سبب وقت نہ کم پڑ جائے۔ لیکن، جب اس کو یہ معلوم ہوا کہ رائٹر کوئی اور ہوگا تو اس نے یکسر اسے مسترد کردیا اور آپ یقین مانیں اس نے عام بچوں کی طرح تین گھنٹے کی مقررہ مدت میں پورا پیر حل کیا اور ایک منٹ بھی ایکسٹرا نہیں مانگا۔ وہ قدرتی صلاحتیوں کا حامل ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں زندگی میں بہت ترقی کرے گا۔“

پروفیسر انوار احمد زئی عبدالباقی سے محو گفتگو ہیں

پروفیسر انوار احمد زئی عبدالباقی سے محو گفتگو ہیں

آخری پیپر والے دن میٹرک بورڈ کے چیئرمین پروفیسر انوار احمد زئی نے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول نمبر 2چاکی واڑہ لیاری، جہاں عبدالباقی کا سینٹر پڑا تھا، وہاں کا دورہ کیا اور عبدالباقی سے ملے تو اس حد تک داد دیئے بغیر نہ رہ سکے کہ دس ہزار روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا اور رزلٹ آنے پر عبدالباقی کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب منعقد کرانے کا بھی وعدہ کیا۔

ادھر صوبائی سینئر وزیر تعلیم نثار احمد کُھہڑو نے امتحانی مرکز کے دورے کے موقع پر عبدالباقی سے ملاقات کی اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے عبدالباقی کے جذبہٴ حصول تعلیم اور محنت کو سراہتے ہوئے اس کی پڑھائی میں معاونت کا بھی یقین دلایا اور اسے قوم کا فخر قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG