رسائی کے لنکس

کراچی: معذور افراد کی منفرد ورکشاپ، اپنی مدد آپ کی بہترین مثال


کراچی: معذور نوجوان معذوروں کیلئے گاڑی تیار کر رہے ہیں

کراچی: معذور نوجوان معذوروں کیلئے گاڑی تیار کر رہے ہیں

مختلف لوگوں کا کہنا ہے کہ معذور افراد کو تعلیم و تربیت اور نوکری چاہئے، مگر ہم کہتے ہیں کہ ایک معذور شخص کو سب سے پہلے موبیلیٹی یعنی آزادانہ سفری سہولیات چاہئے جسکی مدد سے وہ بغیر کسی دوسرے پر بوجھ بنے آزادانہ ایک سے دوسری جگہ خود آ جا سکیں،‘ ورکشاپ کے سربراہ جاوید کی وی او اے سے گفتگو۔

ہمارے معاشرے میں عموماًً معذور افراد کو مجبور اور لاچار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اسی معاشرے کی ایک قدرے مختلف اور مثبت تصویر کراچی شہر میں موجود گاڑیوں کی ایک ایسی ورکشاپ ہے جسے معذور افراد چلا رہے ہیں۔

یہ معذور نوجوان اپنی محنت و مشقت کے ذریعے دو پہیوں والی موٹرسائیکل کو تین پہیوں میں بدل کر ہر طرح کے جسمانی معذور افراد کے چلانے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ ​نوجوان گاڑیوں کو ایسی شکل میں تبدیل کرتے ہیں جسے ہاتھوں سے معذور افراد، پیروں سے اور ہاتھوں اور پیروں دونوں سے معذور افراد با آسانی چلاسکتے ہیں۔

معذور افراد کو جہاں زندگی کے کئی مراحل پر تکلیف اور مشکلات پیش آتی ہیں وہیں عام پبلک ٹرانسپورٹ میں ان کے لئے کوئی مخصوص حصہ یا سہولت کا نام و نشان تک نہیں، اسی کے نتیجے میں معذور افراد دیگر گھروالوں کا سہارا لیتے ہیں یا اکثر گھر میں قید کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

پاکستان میں یہ واحد ورکشاپ ہے جو کراچی بھر سے ملک کے دیگر شہروں میں موجود معذور افراد کو گاڑیاں بناکر دیتا ہے۔ معذوروں کیلئے معذور نوجوان کام میں مصروف ہیں

معذوروں کیلئے معذور نوجوان کام میں مصروف ہیں

اس ورکشاپ کا تعلق معذور افراد کیلئے بنائی گئی غیرسرکاری تنظیم ڈس ایبل ویلفئر ایسوسی ایشن سے وابسطہ نوجوان معذور افراد کررہے ہیں جبکہ اس تنظیم کو چلانےوالے بھی جسمانی معذور افراد ہی ہیں۔

تنظیم کے سربراہ جاوید جو خود جسمانی معذوری، رکیٹس بیماری کا شکار ہیں وائس آف امریکہ کی نمائندہ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ، ’مختلف لوگوں کا کہنا ہے کہ معذور افراد کو تعلیم و تربیت اور نوکری چاہئے، مگر ہم کہتے ہیں کہ ایک معذور شخص کو سب سے پہلے موبیلیٹی یعنی آزادانہ سفری سہولیات چاہئے جسکی مدد سے وہ بغیر کسی دوسرے پر بوجھ بنے آزادانہ ایک سے دوسری جگہ خودجاسکیں‘۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ اس گاڑی کو بنانے میں ایک ہفتے تک کا وقت اور 60 سے80 ہزار تک کاخرچہ ہے جبکہ ہم کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں 700 گاڑیاں بناکر دے چکے ہیں ہمیں جہاں سے آرڈر ملتا ہے ہم پورا کرلیتے ہیں ۔

شاکر خان کو 3 سال کی عمر میں پولیو کی بیماری نے معذور بنادیا۔ میٹرک تو والدین نے جیسے تیسے انھیں تعلیم دلوادی مگر انھیں آگے پڑھنے کا بھی شوق تھا، معذور افراد کیلئے بنائی گئی اس خصوصی موٹربائیک استعمال کرنےوالے شاکر خان جو خود بھی اس تنظیم کا حصہ ہیں وائس آف امریکہ کو بتاتے ہیں کہ، ’اس گاڑی نے میری زندگی کو مکمل کردیا ہے میں نے کالج میں داخلہ لیا اور اب گریجویشن میں پڑھ رہا ہوں۔

کمپیوٹر کورسز سیکھے اب ایک نجی ادارے میں بطور کمپیوٹر آپریٹر نوکری کررہاہوں یہ سب اس گاڑی کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے

کیوںکہ کالج میں داخلے سے لےکر آفس میں نوکری تک مجھے باہر جانے کیلئے اس گاڑی کی ضرورت درکار ہوتی ہء، اب میں بغیر کسی پر بوجھ خود سے سفر کرتا ہوں اور ایک عام انسان جیسی زندگی گزار رہا ہوں‘۔

معذور افراد کیلئے دلی جذبہ رکھنے والے ان معذوروں کیلئے جسمانی معذوری کوئی مجبوری نہیں بلکہ جینے کا ایک دوسرا اسٹائل ہے معذوروں کو صرف سہولیات کی ضرورت ہے اگر انھیں وہ مہیا ہوجائے تو وہ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے خود بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزر بسر کرسکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG