رسائی کے لنکس

افغانستان سے پاکستانی قبائلیوں کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

نقل مکانی کر کے جانے والے پاکستانی قبائلیوں کی واپسی کا عمل گزشتہ ماہ کے وسط میں شروع ہوا تھا اور قبائلی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک بارہ سو خاندان واپس لوٹ چکے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے تقریباً ڈھائی سال قبل فوجی آپریشن کے باعث افغانستان نقل مکانی کر جانے والے قبائلیوں کی وطن واپسی کا عمل بظاہر سست روی کا شکار ہے۔

ان میں سے زیاد تر خاندانوں نے سرحد پار افغانستان کے صوبے خوست میں عارضی طور پر سکونت اختیار کی۔

نقل مکانی کر کے جانے والے پاکستانی قبائلیوں کی واپسی کا عمل گزشتہ ماہ کے وسط میں شروع ہوا تھا اور قبائلی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک بارہ سو خاندان واپس لوٹ چکے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بارے میں بات کرنے سے گریز کیا کہ پاکستانی قبائلیوں کی وطن واپسی کا عمل سست کیوں ہو گیا ہے۔

افغانستان سے واپس آنے ان خاندانوں کو بنوں کے قریب بکاخیل میں قائم کیمپ میں لایا جاتا ہے، جہاں کچھ دنوں تک رکھنے کے بعد اُنھیں اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی راہنما نے خوست سے قبائلیوں کی واپسی کے معاملے پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی انتظامیہ نے افغانستان نقل مکانی کر کے جانے والے شمالی وزیرستان کے قبائلیوں سے وعدہ کیا تھا، کہ وہ اپنا سامان اورگاڑیاں وغیرہ اپنے ساتھ واپس لا سکتے ہیں تاہم ان کے بقول اب ان کو ایسا نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔

"دوسری بات یہ ہے بکا خیل کیمپ میں اُنھیں کسی رشتہ دار سے ملنے نہیں دیا جاتا ۔۔۔۔اس وجہ سے بھی قبائلی واپس آنے سے گبھرا رہے ہیں۔‘‘

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان خاندانوں کی واپسی کا عمل طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری ہے اور ان خاندانوں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

اُدھر شمالی وزیرستان سے اندرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG