رسائی کے لنکس

پاکستان: وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی اس دور افتادہ وادی میں حکومت کی عمل داری کی بحالی کے بعد حالیہ دونوں میں 850 سے زائد خاندان واپس لوٹ چکے ہیں۔

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائی کے بعد رواں سال کے اوائل میں بدامنی کے باعث یہاں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی گھروں کو واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کے ادارے فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی ایم اے) کے ایک عہدیدار شاہ دراز خان نے جمعہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وادی تیراہ میں حکومت کی عمل داری کی بحالی کے بعد حالیہ دونوں میں 850 سے زائد خاندان واپس لوٹ چکے ہیں۔

شاہ دراز خان کا کہنا تھا کہ واپس جانے والے تقریباً 3,000 افراد کی اکثریت کا تعلق آفریدی قبیلے کی ذیلی شاخ ملک دین خیل سے ہے، اور یہ لوگ کوہاٹ کے جرما اور کرم ایجنسی کی تحصیل سدہ کے نیو درانی کیمپوں میں مقیم تھے۔

’’ایف ڈی ایم اے ان لوگوں کو سفری سہولتیں فراہم کر رہی ہے، اقوام متحدہ کی مختلف تنظیمیں انھیں ریٹرن پیکج دے رہی ہیں جب کہ حکومت، پولیٹیکل انتظامیہ اور فوج انھیں اُن کے اپنے علاقون میں مکمل مدد فراہم کر رہے ہیں ... لوگوں کی واپسی کا یہ سلسلہ اکتوبر کے وسط تک جاری رہے گا۔‘‘

وادی تیراہ متحرب شدت پسندوں گروہوں کے مابین جھڑپوں کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے بد امنی کا شکار رہی اور رواں سال کے اوائل میں طالبان سے منسلک جنگجوؤں کی بڑی کارروائی کے بعد علاقے میں فوجی آپریشن کیا گیا۔

عسکری حکام نے رواں ماہ اعلان کیا کہ وادی تیراہ میں شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے قائم جلوزئی کیمپ میں جمعہ کو موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے صوبہ خیبر پختون خواہ میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دفتر پر حملہ کرکے ایک شخص کو ہلاک اور چار افراد کو زخمی کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تحریک انصاف کے کارکن نے خیبر ایجنسی میں طالبان مخالف امن لشکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG