رسائی کے لنکس

یورپی رہنماؤں کا برطانیہ کے بغیر مستقبل کے بارے میں غور


یورپی یونین کے راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں ڈیوڈ کیمرون فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے بات چیت کرتے ہوئے۔ فائل فوٹو

یورپی یونین کے راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں ڈیوڈ کیمرون فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے بات چیت کرتے ہوئے۔ فائل فوٹو

دیگر ممالک میں بھی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے سوال پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کے رہنما پہلی مرتبہ برطانیہ کے بغیر یونین کے مستقبل پر غور کے لیے جمع ہو رہے ہیں تاکہ برطانیہ کی اس اتحاد سے علیحدگی کے غیر معمولی فیصلے کے بعد اسے ٹوٹنے سے بچایا جا سکے۔

یورپی یونین کے بانیوں اور نئے مشرقی رکن ممالک کے درمیان اختلافات کے باعث بدھ کو کسی بھی نئے جرات مندانہ اقدام میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ہالینڈ کے وزیراعظم مارک رٹ کا کہنا ہے کہ ’’صرف برطانیہ کے ووٹروں کو ہی یورپی یونین میں تعاون پر شکوک و شبہات نہیں۔ کئی دیگر یورپی ممالک بھی ایسے شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔‘‘

دیگر ممالک میں بھی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے یورپی اتحاد کو چھوڑنے کے سوال پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کی علیحدگی کے بعد باقی 27 رکن ممالک میں نقل مکانی کے مسئلے پر اختلافات موجود ہیں۔

گزشتہ ہفتے برطانوی ریفرنڈم میں مشرقی یورپ سے نقل مکانی کر کے برطانیہ آنے والوں کے سوال نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون منگل کی رات بغیر کسی واضح منصوبے کے برسلز سے واپس اپنے ملک روانہ ہوئے۔

منگل کو انہوں نے برطانیہ کے یونین چھوڑنے کے فیصلے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک یورپ کی طرف پیٹھ نہیں پھیرے گا اور اس کی بجائے جتنے مضبوط تعلقات ممکن ہوئے قائم کرے گا۔

یورپی یونین کے اجلاس میں آخری مرتبہ شرکت کے بعد کیمرون نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جمہوریت پسند ہونے کے باعث انہوں نے اپنے عوام کی مرضی کو قبول کیا ہے اور دیگر رہنماؤں نے بھی اس انتخاب کا ’’دکھ اور افسوس‘‘ کے ساتھ احترام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں نے اپنے دماغ، دل اور روح کے ساتھ برطانیہ کو یورپی یونین میں رکھنے کی کوشش کی مگر میں کامیاب نہیں ہو سکا۔‘‘

’’اب یقیناً مجھے اس کے بارے میں دکھ ہے مگر سچ کہوں تو میں اس بارے میں زیادہ فکرمند ہوں کہ برطانیہ کیسے یورپ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر سکے گا۔‘‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ یورپی یونین چھوڑ دے گا اور اس تاثر کو رد کیا کہ وہ علیحدگی سے بچ سکتا ہے یا اگر یورپی یونین سے تارکین وطن محنت کشوں کی آمد کو روکا جا سکے تو اس بڑی منڈی تک برطانیہ کی رسائی کو بحال رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ کو ایک منڈی کے مکمل فوائد چاہیئیں تو آپ کو اس کے ہر حصے کو قبول کرنا ہوتا ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG