رسائی کے لنکس

روشنیوں کا تہوار دیوالی جوش و جذبے سے منایاگیا


روشنیوں کا تہوار دیوالی جوش و جذبے سے منایاگیا

روشنیوں کا تہوار دیوالی جوش و جذبے سے منایاگیا

ہندو برادری کا تہوار دیوالی، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جمعے کے روزجوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ کراچی میں ایم اے جناح روڈ ، کلفٹن اور دیگر علاقوں میں واقع مندروں میں دیوالی بڑی دھوم دھام سے منائی گئی، جبکہ ان مندروں میں دن بھر پوجاکرنے کے لئے آنے جانے والے عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا۔

دیوالی کو دیپاولی یعنی دیپوں یا دیووٴں کا جشن بھی کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس روز مٹی کے دیئے جلائے جاتے ہیں۔ گھروں میں خواتین نگولی سجاتی ہیں، گھروں میں مختلف پکوان بنتے ہیں، آپس میں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور نئے کپڑے پہننے کے ساتھ ساتھ رات کو آتش بازی کی جاتی ہے۔

آتش بازی میں بڑے پیمانے پر زوردار دھماکے سے پھٹنے والے بم، روشنیاں بکھیرنے والی چکریاں، انار، راکٹ، پھل جھڑیاں اور پٹاخے سب شامل ہوتے ہیں۔ یہ آتش بازی اندھیرا ہوتے ہی شروع ہوتی ہے اور رات گئے تک جاری رہتی ہے۔

اس دن ہندو برادری خاص طور سے لشمی دیوی کی پوجا کرتی ہے۔ عقائد کے مطابق لشمی دھن دولت کی دیوی ہے اور اس کی پوجا سے آنے والے دنوں میں خوشحالی آتی ہے۔

کراچی میں مقیم اور صحافت کے پیشے سے وابستہ روی شنکرنے وی او اے سے گفتگو کے دوران کہا "دیوالی خوشیوں کا تہوار ہے، نیا سال بھی اسی دن سے شروع ہوتا ہے ۔ ہندو برادری کھل کر یہ تہوار مناتی ہے ۔ نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ موجود ہندوٴں کی ایک بڑی تعداد دیوالی کو سب سے بڑے تہوار کے طور پر مناتی ہے۔ درحقیقت یہ ثقافتی تہوار وں میں سے ایک ہے جو عموماً نئی فصلوں کی کٹائی اور بوائی سے منسوب ہوتے ہیں۔ نئی فصل کی بوائی پر ہولی جبکہ فصلوں کی تیاری پر دیوالی کے تہوار پورے مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت سے منائے جاتے ہیں۔ پاکستانی ہندو کمیونٹی کو ان تہواروں پر کوئی خطرہ یا روک ٹوک نہیں ہوتی۔ رہی بات امن و امان کی تو امن ہر مذہب کے تہوار پر خراب ہوسکتا ہے کیوں کہ امن کے دشمن ہر موقع پر امن برباد کرسکتے ہیں"۔

کراچی ہی کی ایک شہری ریکھا دیالال کا کہنا ہے کہ "خوشیوں کا دوسرا نام ہی دیوالی ہے، اس تہوار کو منانے کے جو مزے ہیں وہ کسی اور تہوار میں نہیں میں تو کہتی ہوں کہ ہر روز دیوالی ہونی چاہئے"۔

ایک بزرگ شہری پرکاش رمن نے اپنے بچپن کے دنوں میں منائی جانے والی دیوالی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا بتایا :اب دیوالی منانے کے وہ مزے کہا ں جو ہمارے زمانے میں ہوا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے اس دن محلے کے گھروں سے قسم قسم کی رنگین ،مزیدار مٹھائیاں کھانے کوآتی تھیں، دروازے پر دستک ہوتے ہی ہم دروازہ کھولنے اٹھ جاتے، بڑا سا صحن عبور کرکے دروازے سے جاتے اور محلے سے آئی ہوئی مٹھائی میں کچھ حصہ پار کرجاتے یا وہیں، دروازے کے پاس ،جلدی جلدی کھا لیتے کہ اندر لے کر گئے تو حصہ کم ہوجائے گا۔ کبھی کبھی والدین رنگے ہاتھوں پکڑ بھی لیتے تو خوب ڈانٹ پڑتی۔ اب نہ مٹھائی کہیں سے آتی ہے کہ زمانے کے رواج بدل گئے اور نہ ہم اس قابل رہے کہ مٹھائی ہی جی بھر کے کھا سکیں"۔

دیوالی بھارت کا بھی سب سے بڑا تہوار مانا جاتا ہے ۔ آج اس موقع پر پاکستانی اور بھارتی بارڈر سیکورٹی فورسز میں مٹھائی کا تبادلہ کیا گیا۔ یہ تبادلہ مقبوضہ کشمیر کی آر ایس پورہ پوسٹ پر بھارتی سیکورٹی فورس اور پاکستان رینجرز کے درمیان ہوا۔ بی ایس ایف کے ونگ کمانڈر ونیت کمار نے مٹھائی پاکستان رینجرز کے ونگ کمانڈر ذوالفقار علی کوپیش کی۔ پاکستان رینجرز کی جانب سے بھی بھارتی کمانڈر کو مٹھائی کا ڈبہ پیش کیا گیا۔ پاکستان اور بھارتی سرحدی محافظ ہرسال دیوالی کے موقع پر اسی طرح مٹھائیوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

درحقیقت دیوالی برائی پر اچھائی کی فتح کا نام ہے ۔ دیوالی راجہ رام چند ر کی 14 سال تک جنگلات میں رہنے کے بعد ایودھیا واپسی کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔ راجہ کو 14 سال تک ایودھیا کے جنگلات میں زندگی گزارنا پڑی تھی کیوں کہ ان کی سوتیلی ماں نے رام کے پتا اور اس وقت کے راجہ سے چالاکی سے یہ وعدہ لے لیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے رام کو 14 برس ون واس (جنگلوں میں قیام ) کے لئے بھیج دے ۔ رام کو جنگل بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کی جگہ اس کے سوتیلے بھائی کو اقتدار پر بیٹھادیا جائے۔ جنگلات میں مشکلات گزار کر جس دن رام واپس ایودھیاآئے اسی دن کو دیوالی کے تہوار سے منسوب کردیا گیاجو آج تک منایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG