رسائی کے لنکس

روشنی کا تہوار، کراچی میں ہر طرف دیوالی کے رنگ


کراچی کے نارائن مندر میں پوجا پاٹ کے بعد بچوں، بڑوں اور نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں نے مندر کے احاطے میں آتشبازی کی۔ پٹاخوں اور پھلجڑیوں کے شور میں نوجوانوں کا ہجوم آتشبازی میں مشغول رہا

پاکستان بھر کی طرح کراچی شہر میں بھی شام ڈھلتے ہی ہندو برادری کی جانب سے دیوالی کا تہوار شروع ہوگیا۔ شام کا اندھیرا چھاتے ہی ہندو برادری نے پوجاپاٹ کے بعد کراچی شہر میں دیوالی کی رنگینیاں بکھیردیں۔

ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد ہفتوں پہلے سے ہی دیوالی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ ہر ہندو خاندان اپنی حیثیت کے مطابق دیوالی کا اہتمام کرتا ہے۔ بڑے اور بچے خاندان کے تمام افراد دیوالی کے دن مندر جاتے ہیں اور دیوالی کی پوجا پاٹ میں شرکت کرتے ہیں۔

ہندو برادری نے دیوالی کا تہوار اپنے مخصوص انداز میں منانے کا بھرپور اہتمام کیا گیا تھا۔

اُنھوں نے اپنے گھروں کو برقی قمقموں اور چراغ جلاکر اور گھر کے آنگن میں رنگولی بناکر کیا۔


رنگولی بناتے ہوئے، لکشمی نے بتایا کہ، ’ میں ہر سال اپنے گھر کے آنگن میں رنگولی بناتی ہوں، کیونکہ دیوالی کا تہوار رنگوں کا تہوار کہلاتا ہے۔ رنگولی دیوالی کے رنگ بکھیرنے یعنی ایکدوسرے میں خوشیاں بانٹنے کا نام ہے‘۔

کراچی شہر میں دیوالی کا سب سے بڑا تہوار ’نارائن مندر‘ میں کیا جاتا ہے جہاں بڑی تعداد میں خواتین، مرد، بچے اور نوجوان شریک ہوتے ہیں۔ نارائن مندر میں سب سے پہلے ماتھا ٹیک کر پوجا اور دعائیں کی گئیں ۔ اس کے بعد مندر میں موجود پنڈت کی جانب سے پرساد تقسیم کیا گیا۔

پوجا کے لئے آئے ہوئےعمر رسیدہ ، جیا لال نے بتایا کہ، ’میں ہر دیوالی نارائن مندر میں مناتا ہوں اور دیوالی کی تہوار کی تقریبات میں حصہ لیتا ہوں۔ ایک وقت تھا کہ ہم ہندو لوگ اپنے بھگوان کی مورتی پر پھولوں سمیت کئی کئی تولے سونا بھی چڑھاتے تھے مگر اب مہنگائی بڑھ جانے کے باعث اب سونا چڑھانا ممکن نہیں۔اس لئے اب صرف پھول چڑھاتے ہیں اور ناریل رکھ کر پوجا کرتے ہیں‘۔

پوجا کے بعد بچوں ، بڑوں اور نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں نے مندر کے احاطے میں آتشبازی کی۔ پٹاخوں اور پھلجڑیوں کے شور میں نوجوانوں کا ہجوم آتشبازی میں مشغول رہا۔

ایک نوجوان للت وکی نے بتایا کہ، ’میں اس بار پچھلے سال سے زیادہ پٹاخے لایا ہوں، مجھے دیوالی منانا اور سب سے زیادہ پٹاخے اور انار پھوڑنے میں مزا آتا ہے۔پٹاخوں کے بغیر دیوالی ممکن نہیں‘۔

راج کمار نے بتایا کہ، ’دیوالی کا تہوار زندگی میں رنگ بھردینے کا نام ہے۔ آتشبازی سے رات کی اندھیرے میں جو رنگ بنتے ہیں وہ نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں‘۔

کراچی میں موجود ہندو اقلیت کی جانب سے دیوالی کے تہوار پر کراچی میں امن قائم رہنے اور شہر کی روشنیاں واپس لانے کی دعائیں اور ملک کی سلامتی کیلئے بھی خصوصی دعاوٴں کا اہتمام کیا گیا۔

صدر زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت حکومت سندھ کی جانب سے سندھ کی ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد پیش کی گئی۔ایم کیو ایم کے قائد کالطاف حسین کی جانب سے بھی ہندو برادری کو دیوالی کی مبارک دی گئی۔
XS
SM
MD
LG