رسائی کے لنکس

فلاڈیلفیا: کلنٹن آج باضابطہ طور پر صدارتی نامزدگی قبول کریں گی


فائل

فائل

ہیلری کلنٹن، جنھوں نے امریکی سیاست کی ایک پوری نسل پر واضح اثرات ڈالے ہیں، جمعرات کو ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی قبول کریں گی، جس کے بعد وہ امریکیوں کو بتائیں گی کہ جنوری میں جب صدر براک اوباما اپنا عہدہٴ صدارت مکمل کریں گے، تو نئی امریکی سربراہ کے طور پر اُن پر اعتماد کا اظہار کیوں ضروری ہے۔

کلنٹن کسی اہم سیاسی پارٹی کی جانب سے نامزد ہونے والی پہلی خاتون ہیں، ’گیلپ‘ کے مطابق، اُنھیں میں زیادہ تر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

تاہم، ساتھ ہی، امریکی ووٹروں کی اکثریت نے رائے عامہ کا جائزہ لینے والے اہل کاروں کو بتایا ہے کہ وہ اُن پر اعتماد نہیں کرتے، جن متضاد باتوں کے باعث ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اُن کا مقابلہ سخت ہوگیا ہے، جو وائٹ ہاؤس کے چار سالہ عہدے کے لیے مدِ مقابل ہیں۔

اڑسٹھ برس کی ہیلری کلنٹن سنہ 2009 سے 2013ء تک امریکی وزیر خارجہ رہ چکی ہیں۔ وہ بدھ کے روز کچھ دیر تک پینسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں منعقدہ ’ڈیموکریٹک نیشنل کنویشن‘ میں نطر آئیں، جس سے قبل صدر اوباما نے جانشین کے طور پر اُن کی حمایت کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اب تک صدارت سنبھالنے والے اُن کے مقابلے میں اتنے اہل نہیں تھے، جن میں وہ خود اور اُن کے شوہر، سابق صدر بِل کلنٹن شامل ہیں۔

جمعرات کے روز، کلنٹن اپنا کیس پیش کریں گی۔ اُن کے خطاب سے قبل، انتخابی مہم کی منیجر روبی موک نے کہا ہے کہ کلنٹن آٹھ نومبر کو ووٹ ڈالنے کے لیے ’’ووٹروں کے پاس ایک بہت ہی واضح انتخاب‘‘ موجود ہے۔

موک نے ’سی بی ایس دِس مارننگ‘ شو میں تسلیم کیا کہ ٹرمپ، جو جائیداد کے نامور کاروباری شخص ہیں، پہلی بار کسی منتخب عہدے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ ’’بہت بڑے دعوے کر رہے ہیں جو کچھ لوگوں کے لیے انتہائی پُر کشش ہیں‘‘۔

موک کے بقول، ’’انتخابی مہم کے سلسلے میں جو بات ہمیں کرنی ہے اُس کا دارومدار ہیلری کی آج کی تقریر سے ہے؛ اور اس کنویشن میں اب تک اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے‘‘۔

اُنھوں نے ٹرمپ کو ’’ایسا شخص قرار دیا جنھوں نے پوری زندگی پیسہ بنانے کی فکر کی ہے، اور وہ محنت کشوں کا حق مار کر امیر بنے ہیں، جو بات لوگوں کو سمجھنی ہوگی‘‘۔

کلنٹن نے متعدد بار کہا ہے کہ اُنھیں ووٹروں کا اعتماد جیتنے کی ضرورت ہوگی، جنھیں اُن کی جانب سے نجی اِی میل سرور کے استعمال سے کسی حد تک دھچکہ پہنچا ہے، جب وہ اوباما کے پہلے عہدہٴ صدارت کے دوران ملک کی اعلیٰ ترین سفارت کار تھیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے زیادہ محفوظ سرکاری سرور کی جگہ نجی سرور اس لیے استعمال کیا کیونکہ اُن کے لیے یہ زیادہ سہل تھا۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن حالیہ دِنوں اِس نتیجے پر پہنچا ہے کہ محکمہٴ خارجہ کی اِی میلز جو ایک صیغہٴ راز کا معاملہ ہوتا ہے، وہ ’’انتہائی لاپرواہ‘‘ ثابت ہوئیں۔ لیکن، یہ کہ، اُن پر مقدمہ دائر نہیں ہوسکتا۔

موک نے کہا ہے کہ اس چار سالہ ڈیموکریٹک کنویشن کے نتیجے میں اُن کی نامزدگی مزید پختہ ہوئی ہے، جس سے لوگوں کو اُن کے بارے میں معلومات بڑھی ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ ہیلری پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اُنھوں نے کبھی اُنھیں مایوس نہیں کیا‘‘۔

بدھ کی رات اُن کے اہم حامیوں میں اوباما بھی شامل تھے، جن کے خطاب کے دوران کنوینشن میں موجود ہزاروں ڈیلیگیٹس میں جوش و جذبہ دیکھا گیا۔

XS
SM
MD
LG