رسائی کے لنکس

یورپی یونین سے علیحدگی پر، دو طرفہ تجارتی معاہدے کی جلد توقع نہیں: اوباما


صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

صدر اوباما کا حال ہی میں برطانیہ کے ایک موقر اخبار "دی ٹیلی گراف" میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں انہیں نے اس پر سختی سے زور دیا کہ وہ (برطانیہ) یورپی یونین کے ساتھ رہے کیونکہ ان کے بقول اس طرح برطانیہ زیادہ مضبوط رہے گا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ 23 جون کے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو امریکہ اور اس کے درمیان ایک نئے تجارتی معاہدے کے حصول کے لیے پانچ سے دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ایک برطانوی ٹی وی چینل پر اوباما نے کہا کہ "برطانیہ یورپی یونین کی نسبت امریکہ کے ساتھ کسی معاملے پر تیزی سے بات چیت نہیں کر سکتا ہے"۔

" ہم اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کے متعلق بات چیت کی کوششوں کو ترک نہیں کریں گے۔ تاہم کسی بھی معاملے پر پہنچنے کے لیے پانچ سال یا دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے"۔

صدر اوباما جن کے عہدہ صدارت کی آخری مدت جنوری میں ختم ہو رہی ہے، نے گزشتہ تین دن برطانیہ میں قیام کے دوران لوگوں سے کہا کہ وہ یورپی یونین کا حصہ رہنے کے لیے ووٹ دیں۔

صدر اوباما کا حال ہی میں برطانیہ کے ایک موقر اخبار "دی ٹیلی گراف" میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں انھوں نے اس پر سختی سے زور دیا کہ وہ (برطانیہ) یورپی یونین کے ساتھ رہے کیونکہ ان کے بقول اس طرح برطانیہ زیادہ مضبوط رہے گا۔

صدر اوباما نے لکھا کہ "امریکہ یہ دیکھتا ہے کہ کس طرح یورپ میں آپ کی موثر آواز اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یورپ دنیا میں ایک مضبوط موقف اختیار کرے اور یورپی یونین کے دروازے کھلے رکھ کر، دوسرے (ملکوں) کے ساتھ کھلے دل کے ساتھ اور بحیرہ اوقیانوس کے پار اپنے اتحادیوں کے ساتھ جوڑے رکھنا ہے"۔

"اس لیے امریکہ اور دنیا کی ضرورت ہے کہ آپ کا موثر کردار یورپ سمیت جاری رہے"۔

اس بیان پر یورپ سے الگ ہونے کے حامیوں کی طرف سے تنقید کی گئی۔ دائیں بازو کی انڈیپنڈینس پارٹی کے رہنما نائجل فراج نے کہا کہ انھیں اس معاملے سے الگ رہنا چاہیئے۔

لندن کے میئر بورس جانسن نے کہا کہ امریکی رہنما "خود اپنے لیے یورپی یونین کی طرح (اتحاد) کو پسند نہیں کریں گے" ۔

XS
SM
MD
LG