رسائی کے لنکس

مریضوں کی رضاکارانہ خدمت اور روح کی تطہیر

  • شہناز عزیز

مریضوں کی رضاکارانہ خدمت اور روح کی تطہیر

مریضوں کی رضاکارانہ خدمت اور روح کی تطہیر

امراضِ قلب کے ماہر، ڈاکٹر جاوید سلیمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں علاج معالجے کے سلسلے میں رضاکارانہ کام انجام دے کر’ایک روحانی تسکین ملتی ہے۔‘

’یومِ پاکستان‘ کےموقعے پر ’ وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’کچھ تو کہیئے‘ میں گفتگو کرتے ہوئےاُنھوں نے بتایا کہ اُن کے علاوہ متعدد دیگر ڈاکٹر سال میں کئی ایک بار پاکستان میں قائم ’ انڈس اسپتال ‘ جاتے ہیں اوراپنی طبی خدمات مفت پیش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید سلیمان اینجیو پلاسٹی کے ساتھ ساتھ دل کی بیماری کا کلینیکل ورک بھی کرتے ہیں۔اُن کے الفاظ میں: ’پاکستان میری رگ رگ میں موجود ہے۔ بنیادی طور پرانسانی خدمت اپنے مادرِ وطن کے قرض چکانے کے جذبے سے کی جاتی ہے۔ اور، اِس کارِ خیر میں میں اکیلا نہیں ۔ ہزاروں پاکستانی نژاد ڈاکٹر ایسے ہی نیک خیالات رکھتے ہیں‘۔

ڈاکٹر جاوید سلیمان کا کہنا تھا کہ ہم سب پاکستان جاکر کچھ لوٹانا چاہتے ہیں، کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ا ُن کے الفاظ میں، ’ مریضوں کی خدمت کرکے، مجھے لگتا ہے، جیسے میرے روح کی تطہیر ہورہی ہے‘۔

ڈاکٹر شاہد عمر، جو کہ امریکہ میں ’ انڈس اسپتال‘ کے لیے فنڈ جمع کرنے کا کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اتنے بڑے اسپتال کو چلانا کوئی آسان کام نہیں۔ کافی ساری فنڈنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاں امریکہ میں بہت سارے لوگ موجود ہیں جو نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتے ہیں۔اِس سلسلے میں، اُنھوں نے ’فرینڈس آف انڈس ہاسپیٹل‘ کا ذکر کیا، جو کہ نیو جرسی میں رجسٹرڈ ہے۔ ’یہ پیسے پاکستان منتقل نہیں کیے جاتے بلکہ اسپیتال کے لیے درکار چیزیں امریکی کمپنیوں سے خریدی جاتی ہیں‘۔

یوم ِپاکستان اور رضاکارانہ طبی کام کرنے کی امنگ سے متعلق سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ میں رہنے والے اِس اسپتال کے خیرخواہوں کو ملک سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر جاوید سلیمان نے بتایا کہ وہ سال میں دو تین بار پاکستان جاتے ہیں، اُنھیں یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کے مسائل کم ہونے کی جگہ اِن میں اضافہ ہورہا ہے، جِن میں خود لوگوں کا بھی قصور ہے۔ اُنھوں نے لسانیت کی بنیاد پر لڑائی جھگڑے ، نفاق اور نفرت کے جذبات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اینجیو پلاسٹی کرتے وقت ’جب میں آرٹری کی ایکسیس لیتا ہوں تو سب کا خون سرخ رنگت کا اور جب یہ جمتا ہے تو بھی ایک ہی رنگ کا ہوتا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ : ’انسانیت ایک دوسرے کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھنا چاہیئے۔ امن وامان کے علاوہ ہمارے ملک کے دیگر داخلی و بیرونی مسائل کو مل جل کر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے‘۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG