رسائی کے لنکس

پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال، مریض پریشان


ینگ ڈاکٹرز کا احتجاجی مظاہرہ

ینگ ڈاکٹرز کا احتجاجی مظاہرہ

پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں نوجوان ڈاکٹروں کی جزوی ہڑتال جمعہ کو چوتھے روز بھی جاری رہی۔

اس صورت حال کے باعث سرکاری اسپتالوں میں علاج کی غرض سے آنے والے ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہا اور بظاہر اس میں جلد بہتری کے امکانات معدوم ہیں۔

ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ’ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن‘ کے صدر ڈاکٹر رانا سہیل نے بتایا ہے کہ احتجاج میں شامل لگ بھگ آٹھ ہزار ڈاکٹر تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے بجٹ میں نوجوان ڈاکٹروں کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے جس سے وہ ہڑتال پر مجبور ہوئے۔

’’پچھلے مہینے بھی ہمیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ایک ماہ کے اندر آپ کو ’سروس اسٹریکچر‘ دیا جائے گا۔ جب ہماری نہیں سنی گئی تو ہمیں مجبوراً احتجاج پر آنا پڑا اور ہمیں آؤٹ ڈور بند کرنا پڑا۔ لیکن ایمرجنسی سروسز میں اب بھی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر رانا سہیل کہتے ہیں کہ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں بلاشبہ روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا کہ علاج کے لیے آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

’’یقیناً مریض متاثر ہوتے ہیں، لیکن تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت اور حکومت پنجاب پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

پنجاب حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں عموماً وہی مریض آتے ہیں جو مہنگا علاج نہیں کرا سکتے، اس لیے طب کے شعبے سے وابستہ افراد کا پیشہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہڑتال کا راستہ اختیار نا کیا جائے۔

گزشتہ سال بھی اپریل میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے پنجاب میں 37 دنوں تک ہڑتال کی تھی اور صوبائی حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد ڈاکٹروں نے دوبارہ اپنا کام شروع کیا تھا۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ مالی سال میں ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا تھا کہ اب بھی ان کے مطالبے پر غور کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG