رسائی کے لنکس

مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ پہلے اور دوسرے بچے کی ولادت والدین کی خوشیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے لیکن تیسرے بچے کی ولادت کے موقع پر ایسا نہیں ہوتا۔

اگر بہن بھائیوں میں آپ کا نمبر تیسرا، چوتھا یا پانچواں ہے تو یہ تحقیق شاید آپ کو اتنا متاثر نہ کرے۔ لیکن برطانوی محققین کے اس نئے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ پہلے اور دوسرے بچے کی ولادت والدین کی خوشیوں میں عارضی اضافے کا باعث بنتی ہے لیکن تیسرے بچے کی ولادت کے موقع پر ایسا نہیں ہوتا۔

'لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس' اور 'ویسٹرن یونیورسٹی' کینیڈا کی مشترکہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے اور بچے کی آمد کی خوشی والدین کی خوشیوں میں عارضی اضافہ کرتی ہے لیکن ماں باپ بننے کی یہ خوشی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی اور بہت تیزی سے کم ہوجاتی ہے اور بالآخر پھر سے اسی سطح پر واپس پہنچ جاتی ہے جب ان کی زندگی میں بچے کا وجود نہیں تھا۔

سائنسی رسالے 'جرنل ڈیمو گرافی' میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق والدین کی خوشیوں میں عارضی اضافے کی سطح کا پیٹرن دوسرے بچے کی ولادت میں بھی کم وبیش ایک جیسا ہی نظر آتا ہے۔ لیکن اس بار بچے کی ولادت کی خوشی پہلے بچے کی آمد کے مقابلے میں نصف ہوتی ہے۔

تحقیق دانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب خاندان میں تیسرے فرد کے اضافے کا وقت آتا ہے تو تیسرے بچے کی ولادت پر والدین میں یہ عارضی خوشی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

'لندن اسکول آف اکنامکس' میں سوشل سائنسز کے پروفیسر مائیکو مائییک اسکالا کہتے ہیں کہ ہمارا مطالعہ پہلے اور دوسرے بچے کی آمد سے حاصل ہونے والی والدین کی عارضی خوشیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

والدین کی اس خوشی کی وجوہات کے متعلق محققین نے قیاس کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پہلے اور دوسرے بچے کی ولادت سے قبل بچے کی نگہداشت اور مستقبل کی منصوبہ بندی والدین کو خوش رکھنے کا باعث بنتی ہو۔

لیکن مطالعے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ والدین اپنے باقی بچوں کے مقابلے میں تیسرے یا چوتھے بچے سے کم پیار کرتے ہیں۔

پروفیسر اسکالا نے مزید کہا ہے کہ اس نتیجے کے برعکس ہوسکتا ہے کہ تیسرے بچے کی پیدائش کے وقت والدین کے لیے زندگی کا یہ تجربہ اتنا دلچسپ نہیں رہتا ہو یا پھر ہو سکتا ہے کہ تیسرے بچے کی آمد کے ساتھ خاندان کی ضروریات کے حساب سے وسائل کے محدود ہونے کی فکر ان کی خوشیوں میں اضافہ نہیں ہونے دیتی ہو۔

برطانوی تحقیق دانوں نے بتایا ہے کہ مرد اور عورت کی خوشیاں بچوں کی آمد کے ساتھ کتنا بڑھتی ہیں۔ اس حوالے سے دونوں کی عارضی خوشیوں کی سطح میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

بقول پروفیسر اسکالا عام طور پر مائیں زچگی کے دوران بچے کی ولادت کی خوشی کو زیادہ محسوس کرتی ہیں۔ لیکن والد کے مقابلے میں ماؤں میں خوشیوں کی سطح پیدائش کے پہلے ہی سال میں تیزی سے نیچے آجاتی ہے۔ البتہ بچے کی پیدائش کو زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد مرد اور عورت دونوں کی خوشیوں کی سطح میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔

ماہرین نے مزید کہا ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش کی خوشیاں بڑی عمر کے تعلیم یافتہ والدین کے لیے زیادہ مثبت ثابت ہوتی ہیں۔ خاص طور پر 35 برس 49سے برس کے والدین پہلے بچے کی پیدائش سے زیادہ خوشیاں حاصل کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان میں بچے کی آمد کے بعد کافی عرصے تک یہ خوشی برقرار رہتی ہے۔

اس کے برعکس نوجوانی میں والدین بننے والے لڑکوں اور لڑکیوں میں بچوں کی پیدائش معمولی خوشی سے زیادہ آگے نہیں بڑھتی ہے جبکہ ان کی نسبت 23 سے 34 برس کے والدین پہلے اور دوسرے بچے کی ولادت پر زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG