رسائی کے لنکس

ماہر کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ڈالر صرف پاکستانی کرنسی میں ہی کم نہیں ہوا بلکہ کرنسی کے کاروبار سے جڑے ماہرین کے بقول پورے ایشیائی خطے کی مارکیٹوں میں بھی ڈالر کو دھچکا لگا ہے

پاکستان میں پچھلے کئی دنوں سے صرف ’ڈالر‘ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گھروں میں، دفاتر میں، نجی محفلوں میں شاپنگ سینٹرز میں حتیٰ کہ فون پر بھی۔۔۔ہر شخص ایک دوسرے سے مشورہ مانگ رہا ہے جن کے پاس پہلے سے ڈالر موجود ہیں وہ پوچھ رہے ہیں ۔۔’ڈالر بیچ دوں کیا؟۔۔کہیں مزید نہ ’گر‘ جائے۔۔۔ریٹ نہیں بڑھے تو۔۔۔؟

جن کے پاس ڈالر نہیں وہ انہیں خریدنے کے لئے ’ماہرین‘ سے مشورے کر رہے ہیں۔۔’ریٹ دوبارہ کب تک بڑھے گا۔۔۔؟؟ کہاں تک جائے گا۔۔۔؟؟ سوا سو روپے سے تو اوپر ہی جائے گا نہ ۔۔آپ تو عرصے سے لین دین کر رہے ہیں، مشورہ دیں مارکیٹ سے مزید ڈالر’اٹھا‘ لوں کیا۔۔۔‘

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے نے بدھ کو مختلف دفاتر اور تجارتی مراکز کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ ’پریشان‘ آئی آئی چندریگر روڈ پر قائم مختلف منی چینجرز ہیں۔۔ان کے پاس کھانا کھانے، نماز پڑھنے حتیٰ کہ سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں۔۔۔لوگ لائنیں لگائے کھڑے ہیں ۔۔کوئی خریدنے کے لئے تو کوئی بیچنے کے لئے۔ کچھ منی چینجرز نے تو سیل ہی بند کردی ہے۔۔۔ان سب کا خیال ہے کہ یہ صورتحال مصنوعی ہے ۔۔دوچار دن میں ریٹ مزید بڑھ جائیں گے اور ان کے کم دام میں خریدے گئے ڈالر ان کے لئے راحت کا سبب بن جائیں گے۔۔۔اس لئے انہوں نے سیل روکی ہوئی ہے۔

تاہم، ای سی اے پی کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا ہے ’مصنوعی بحران تو ختم ہورہا ہے۔۔۔یہ جو بار بار ریٹ بڑھ رہے تھے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ نیچے آرہا تھا ۔۔وہ ’اچھال‘ مصنوعی تھا، ڈالر اصل ریٹ پر تو اب آیا ہے۔۔۔‘

ان کے مقابلے میں تجزیہ نگار مزمل اسلم کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے پاس دو ارب ڈالر آجانے کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ عوام کے پاس اربوں روپے مالیت کے ڈالر ہیں جو سارے کے سارے رولنگ میں آگئے تو صورتحال مزید خراب بھی ہوسکتی ہے۔‘

کراچی اسٹاک ایکسچینج، کاٹن ایکسچینج، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کرنسی ڈیلرز کے دفاتر، ٹاور، بولٹن مارکیٹ اور چندریگر روڈ پر واقعی ملکی اور غیر ملکی بینکوں کے آس پاس آنے جانے والوں لوگوں میں بدھ کو سب سے زیادہ جس موضوع پر بات ہوئی وہ ’ڈالر‘ ہی ہے۔

نجی بینک میں سروس کرنے والی ایک خاتون نے اپنا نام نہ بتاتے ہوئے وی او اے کو بتایا کہ وہ پس و پیش میں مبتلا ہیں۔۔۔’پہلے سے موجود ڈالر بیچ دوں ۔۔یا ۔۔کہیں سے پیسہ پکڑ دھکڑ کرکے مزید ڈالر خرید لوں۔۔‘ ۔۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 93روپے فی ڈالر کے حساب سے ڈالر ز خریدے تھے ، بدھ کی دوپہر تک ریٹ کم ہوتے ہوتے 99 روپے کے آس پاس ہوگیا جس سے ان کا’ پروفٹ‘ چھ روپے اضافے کے باوجود ’کم‘ ہوگیا۔۔حالانکہ دو تین روز پہلے ڈالر کا ریٹ ایک سو پانچ روپے سے بھی زیادہ ہوگیا تھا۔“

ماہر کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ڈالر صرف پاکستانی کرنسی میں ہی کم نہیں ہوا بلکہ کرنسی کے کاروبار سے جڑے ماہرین کے بقول پورے ایشیائی خطے کی مارکیٹوں میں بھی ڈالر کو دھچکا لگا ہے، جبکہ یورپ انگلینڈ اور مشرق وسطی میں صورتحال کم و بیش ایسی ہی ہے ۔ بھارت میں ڈالر کی قدر میں دو اعشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی اور بھارتی روپیہ گذشتہ سات ماہ کی بلند ترین سطح پر آگیا ۔بنگلا دیش کے ٹکہ میں بھی ڈالر کے مقابلے میں ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔

حیرت انگیز طور پر عوامی رد عمل یہ ہے کہ ڈالر کم ہوا تو ان کا ذاتی نقصان ہوگا، یہ سوچ کم ہے کہ اس سے کم آمدنی والوں کو کتنا فائدہ ہوگا۔ یا یہ چیز کس حد تک اپنے لئے نہیں پوری عوام کے لئے فائدہ مند ہے، معیشت کے لئے یہ صورتحال کتنی سود مند ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر گرنے سے پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل سمیت تمام پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ کم ہوجائیں گے۔

ایک اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ عوام کو یہ امید ہی نہیں کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ کم ہوئے تو ہمارے ملک میں مہنگائی ختم اور ’سستائی‘ بڑھ جائے گی۔ سیاسی مبصرین کو یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا سستائی ہوبھی گئی تو عوام تک کبھی نہیں پہنچے گی۔۔۔اس لئے لوگ ڈالر کے بڑھنے یا ’گرنے‘ کو ذاتی فائدے کی سطح تک دیکھ رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG