رسائی کے لنکس

اہل کاروں کاکہنا ہے کہ ’وائرل انفیکشن‘ کےباعث، ریکارڈ تعداد میں بہہ کر مری ہوئی ڈالفن امریکہ کے مشرقی ساحل پر پہنچ رہی ہے۔

عہدے داروں کے مطابق جولائی سے اب تک بحر اوقیانوس سے بہہ کر ہلاک شدہ ’بوتل نوز‘ قسم کی 753 ڈالفن امریکی ساحل پر پہنچی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ عام طور پر ہر سال، اسی عرصے کے دوران، مرنے والی ڈالفن کی تعداد 74ہوتی ہے۔

یہ ہلاکتیں 1980ء کی دہائی کے اواخر میں ساحلی علاقے میں ڈالفن کی آبادی میں آنے والی وسیع تباہی کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔

سائنس دانوں کا اس بات کا گمان ہے کہ آئندہ مہینوں میں ہلاکتوں کی یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ڈالفن کی یہ ہلاکتیں ایک انفیکشن کے باعث واقع ہوئی ہیں، جنھیں ’ماربلی وائرس‘ کا نام دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں قوت مدافعت جواب دے جاتی ہے۔

یہی وہ وائرس ہے جِس کےباعث گذشتہ ادوار میں بحراوقیانوس کے ساحل پر ڈالفن مرتی رہی ہیں۔ درحقیقت یہ وہی وائرس ہے جو انسانوں میں خسرے کا باعث بنتا ہے۔

اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس بات کا علم نہیں آیا یہ وائرس ڈالفن کی آبادی پر کیسے اثر انداز ہوا، اور یہ کہ وائرس اتنا مہلک کیوں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سال ’ہمپ بیک وہیلز‘ اور ’پِگمی سپرم وہیلز‘ میں بھی یہی وائرس حملہ آور ہوچکا ہے۔
XS
SM
MD
LG