رسائی کے لنکس

قربت کے نتیجے میں جنم لینے والے شدید جذبات قابو سے باہر ہوجائیں، تو تشدد کی شکل اختیار کر سکتے ہیں: رپورٹ

ایک شوہر کسی بات پر اپنی بیوی سے بحث کرتے کرتے اتنا جذباتی ہو جاتا ہے کہ اسے مارنا شروع کر دیتا ہے اور اس تشدد کی وجہ اپنی محبت بتاتا ہے۔

اُس پر بیوی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ اپنی سینڈل اتار کر اپنے شوہر کو مار مار کر اپنے عشق کا اظہار کرنا شروع کر دیتی ہے۔

یہ لطیفہ اپنی جگہ۔ لیکن، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر رشتوں میں تشدد کیوں ہوتا ہے؟

کیا ِاس کی وجہ رشتے میں اپنی بالا دستی قائم کرنا ہوتا ہے؟ اپنا حق جتانا ہوتا ہے؟ یا محبت بھرے رشتے میں اپنے جذبات قابو سے باہر ہو جانا ہوتا ہے؟

’سائنٹیفک امریکن مائنڈ‘ نامی جریدے کے مطابق، قربت کے نتیجے میں جنم لینے والے شدید جذبات قابو سے باہر ہوجائیں، تو تشدد کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

جریدے کے مطابق، کبھی کبھی کسی جوڑے کے بیچ تنازعہ ہاتھ سے نکل جانے کی صورت میں بات تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔

لیکن، زیادہ تر کسی رشتے میں اپنی طاقت کو منوانے اور اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لئے تشدد کیا جاتا ہے اور وہ بھی زیادہ تر مرد کی جانب سے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے، نام نہ بتانے کی شرط پر، اپنی بیوی کو چار پانچ بار مار کر پچھتانے والے ایک شوہر کا کہنا تھا کہ ’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور اگر مرد مارتا ہے تو عورت بھی ایسا کچھ کرتی ہے کہ مرد اسے مارنے پر مجبور ہو جاتا ہے‘۔

اور، اُس کی بیوی کا کہنا تھا کہ ’اگر بات برابری کی بنیاد پر کی، سنی اور سمجھی جائے، تو مار پیٹ کی نوبت ہی نہ آئے۔‘

امریکہ میں پریکٹس کرنے والی پاکستانی ماہر نفسیات، ڈاکٹر منیزا شاھ نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت تشدد کا زیادہ نشانہ بنتی ہے۔ اور تشدد کرنے والے مرد عام طور پر کسی نشے کے عادی ہوتے ہیں، اور ان کا تعلق کم تعلیم یافتہ غریب طبقے سے ہوتا ہے، جو عام طور پر بے روز گار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر منیزا شاھ کا کہنا تھا کہ وہ مرد جو اپنی جیون ساتھی کے مقابلے میں زیادہ پرانے خیالات کے ہوتے ہیں، اُن میں تشدد کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے، اور چاہے مرد ہوں یا خواتین، جنہوں نے اپنے گھر میں ایسا ماحول دیکھا ہو، اُن میں تشدد کرنے یا ایسے تشدد کا شکار بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG