رسائی کے لنکس

جلسوں میں تشدد کے ذمہ دار مخالفین ہیں، ڈونالڈ ٹرمپ کا الزام


انٹرویو کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اس انتباہ کو دہرایا کہ اگر ری پبلکن پارٹی نے نومبر کے صدارتی انتخاب میں انہیں اپنا امیدوار نامزد نہ کیا تو امریکہ میں فسادات پھوٹ پڑیں گے۔

امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخاب میں ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کے سرِ فہرست امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے جلسوں میں اپنے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والی ہاتھا پائی کے واقعات کی مذمت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'اے بی سی' کے پروگرام 'دِس ویک' میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے جلسوں میں ہونے والے تشدد کی زیادہ ذمہ داری "ہلڑ بازی کرنے والے پیشہ ور افراد" پر عائد ہوتی ہے جو ان کے بقول ان کے مخالفین جلسوں کو خراب کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔

ہفتے کو ایریزونا میں ہونے والے ایک انتخابی جلسے کی ویڈیوز میں ٹرمپ کے حامیوں کو ایک مخالف کو مارتے پیٹتے دکھایا گیا ہے جب کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے نگران کورے لیوان ڈوسکی کے ایک مخالف شخص کو قیمص سے پکڑ کر کھینچنے کا منظر بھی کیمروں نے ریکارڈ کرلیا ہے۔

لیکن اتوار کو اپنے انٹرویو کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے لیوان ڈوسکی کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ ہرگز اپنے حامیوں کی جانب سے مخالفین پر کیے گئے حملوں اور مار پٹائی کی مذمت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کے بیشتر واقعات کے محرک ان کے مخالف مظاہرین ہوتے ہیں جنہیں، ان کے بقول، کسی صورت معصوم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ہفتے کو ایریزونا میں ہونے والے ایک انتخابی جلسے کی ویڈیوز میں ٹرمپ کے حامیوں کو ایک مخالف کو مارتے پیٹتے دکھایا گیا ہے

ہفتے کو ایریزونا میں ہونے والے ایک انتخابی جلسے کی ویڈیوز میں ٹرمپ کے حامیوں کو ایک مخالف کو مارتے پیٹتے دکھایا گیا ہے

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کی مہم کے نگران لیوان ڈوسکی گزشتہ ہفتے ایک صحافی سے بھی بدتمیزی کرچکے ہیں۔ لیکن اتوار کو اپنے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ لیوان ڈوسکی کو "جرات کا مظاہرہ" کرنے پر سراہتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اس انتباہ کو دہرایا کہ اگر ری پبلکن پارٹی نے نومبر کے صدارتی انتخاب میں انہیں اپنا امیدوار نامزد نہ کیا تو امریکہ میں فسادات پھوٹ پڑیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ری پبلکن کی نامزدگی کی دوڑ میں شریک تمام امیدواران کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقبول ہیں اور ری پبلکن ووٹرز کی اکثریت انہیں امریکہ کا آئندہ صدر دیکھنا چاہتی ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے بیشتر رہنما اب کھل کر ڈونالڈ ٹرمپ کی نامزدگی کا راستہ روکنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو امریکی ریاستوں میں پارٹی کے اب تک ہونے والے پرائمری انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت رہے ہیں۔

ری پبلکن رہنما ٹرمپ کی غیر محتاط بیان بازی اور انتہائی قدامت پسندانہ خیالات سے نالاں ہیں اور انہیں پارٹی اور اس کے نظریات کے لیے بھی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے لگ بھگ دو درجن سینئر رہنما پیر کو واشنگٹن میں ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے جس میں ٹرمپ کو پارٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ پارٹی کے کون کون سے رہنما اس ملاقات میں شریک ہوں گے۔

نیویارک سے تعلق رکھنے 69 سالہ ارب پتی تاجرڈونالڈ ٹرمپ کے انتخابی جلسوں میں ہلڑ بازی کے واقعات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

جلسوں میں ٹرمپ کے خطاب کے دوران اکثر و بیشتر ان کے مخالفین ان کے خلاف نعرے بازی یا شور شرابہ کرکے ان کے خطاب کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اپنی تقریروں کے دوران مخالف مظاہرین کی دخل اندازی پر ٹرمپ کئی بار اپنے حامیوں کو ان افراد کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر بھی اکسا چکے ہیں جب کہ ایک بار دورانِ خطاب انہوں نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ وہ خود مظاہرہ کرنے والے شخص کو گھونسہ رسید کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG